لارڈز میں شکست، قومی ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ سرفراز احمد کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا
مائیک ہیسن کو وائٹ بال کے بعد ٹیسٹ ٹیم کی ذمہ داریاں بھی سونپے جانے کا امکان
انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ میں قومی ٹیم کی بدترین شکست کے بعد پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ سرفراز احمد کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ٹیسٹ ٹیم کی مسلسل ناقص کارکردگی کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ہیڈ کوچ سرفراز احمد کی جگہ تبدیلی پر غور کیا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق وائٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن، جو ابتدائی طور پر ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید کے ہمراہ لندن پہنچے تھے، اب ٹیسٹ ٹیم کے معاملات بھی سنبھال سکتے ہیں۔
مائیک ہیسن کو پہلے ہی پاکستان کی ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ٹیموں کی ذمہ داریاں سونپی جا چکی ہیں۔ اگر نئی تبدیلی کی منظوری دی جاتی ہے تو وہ ریڈ بال ٹیم کی کوچنگ بھی سنبھال لیں گے اور یوں قومی کرکٹ ٹیم کے تینوں فارمیٹس کی ذمہ داریاں ایک ہی ہیڈ کوچ کے پاس آ جائیں گی۔
قومی ٹیم کی حالیہ کارکردگی نے ٹیم مینجمنٹ کے لیے مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ انگلینڈ نے لارڈز میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان کو 194 رنز سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز میں دو صفر کی فیصلہ کن برتری حاصل کرلی ہے۔
لارڈز ٹیسٹ میں انگلینڈ نے پاکستان کو جیت کے لیے 389 رنز کا ہدف دیا تھا، تاہم قومی ٹیم دوسری اننگز میں صرف 194 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ اس شکست کے بعد پاکستان کے لیے سیریز برابر کرنے کے امکانات بھی ختم ہوگئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ٹیم کی مجموعی کارکردگی، کوچنگ اسٹاف اور کھلاڑیوں کی پرفارمنس کا تفصیلی جائزہ لے رہا ہے۔ مسلسل ناکامیوں کے باعث کوچنگ اسٹاف میں تبدیلی کے امکانات کو خارج نہیں کیا جا سکتا۔
سرفراز احمد کی زیر نگرانی قومی ٹیسٹ ٹیم کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ پی سی بی کی جانب سے مستقبل کی حکمت عملی پر مشاورت جاری ہے۔
اگر مائیک ہیسن کو ٹیسٹ ٹیم کی ذمہ داریاں بھی سونپ دی جاتی ہیں تو یہ پاکستان کرکٹ کے کوچنگ سیٹ اپ میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔ تاہم حتمی فیصلہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی مشاورت اور کارکردگی کے جائزے کے بعد کیا جائے گا۔
قومی ٹیم اب سیریز کے تیسرے اور آخری ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کرکے اپنی ساکھ بحال کرنے کی کوشش کرے گی، جبکہ شائقین کی نظریں ٹیم میں ممکنہ تبدیلیوں اور پی سی بی کے آئندہ فیصلوں پر مرکوز ہیں۔






