ویانا کے میوزیم میں دن دہاڑے ایک ارب روپے سے زائد مالیت کا ہیروں کا ہار چوری
آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ایک میوزیم سے دن دہاڑے ایک ارب روپے سے زائد مالیت کا قیمتی ہیروں کا ہار چوری ہونے کا واقعہ پیش آیا ہے۔ دو مشتبہ افراد زیورات کی نمائش دیکھنے کے بہانے میوزیم میں داخل ہوئے اور موقع ملتے ہی ہتھوڑے سے شیشے کا ڈسپلے کیس توڑ کر قیمتی ہار لے کر فرار ہوگئے۔
یہ واقعہ آسٹریا کے میوزیم آف اپلائیڈ آرٹس میں پیش آیا، جہاں مختلف تاریخی اور قیمتی اشیا کی نمائش جاری تھی۔ چوری ہونے والا ہار 673 ہیروں پر مشتمل تھا اور اسے فرانسیسی جیولری ہاؤس وان کلیف اینڈ آرپلز سے میوزیم نے ادھار لیا تھا۔
ملزمان نے دن دہاڑے واردات کی
غیر ملکی میڈیا کے مطابق دو افراد زیورات کی نمائش دیکھنے کے بہانے میوزیم میں داخل ہوئے۔ دونوں نے چہروں پر نقاب بھی نہیں پہن رکھا تھا۔ موقع ملنے پر انہوں نے ہتھوڑے کی مدد سے شیشے کا ڈسپلے کیس توڑا اور ہار نکال کر میوزیم سے فرار ہوگئے۔
حیران کن طور پر ملزمان نے واردات کے بعد کسی خفیہ راستے کے بجائے قریبی پارک کی جانب دوڑ لگا دی۔ پولیس نے واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا اور ملزمان کی تلاش کے لیے کتوں کی مدد بھی حاصل کی گئی۔
پولیس کی جانب سے میوزیم میں موجود سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ بھی حاصل کی گئی ہے۔ حکام نے مشتبہ افراد کی تصاویر جاری کرتے ہوئے شہریوں سے بھی معلومات فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
ایک ارب روپے سے زائد مالیت کا ہار
چوری ہونے والے ہیروں کے ہار کی مالیت 40 لاکھ ڈالر سے زائد بتائی گئی ہے، جو پاکستانی کرنسی میں ایک ارب 10 کروڑ روپے سے زیادہ بنتی ہے۔ یہ ہار اپنی تاریخی اہمیت کے باعث بھی انتہائی قیمتی سمجھا جاتا ہے۔
ہار میں 673 ہیرے جڑے ہوئے تھے اور اسے 1930 کی دہائی میں مصر کی ملکہ نازلی کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ ملکہ نازلی مصر کے شاہ فاروق کی والدہ تھیں اور ان کے لیے تیار کیے گئے زیورات میں یہ ہار بھی شامل تھا۔
بعد میں مصر سے جلاوطنی کے بعد ملکہ نازلی نے 1970 کی دہائی میں یہ ہار فروخت کر دیا تھا۔ کئی دہائیوں بعد یہ قیمتی زیور دوبارہ منظر عام پر آیا اور 2015 میں ایک نیلامی کے دوران 43 لاکھ ڈالر میں فروخت ہوا۔
وان کلیف اینڈ آرپلز سے لیا گیا تھا
میوزیم آف اپلائیڈ آرٹس نے یہ ہار فرانسیسی جیولری ہاؤس وان کلیف اینڈ آرپلز سے ادھار لیا تھا۔ ہار کو میوزیم کی اپنی ملکیت میں موجود دیگر تاریخی اشیا کے ساتھ ایک خصوصی نمائش میں رکھا گیا تھا۔
انتظامیہ کے مطابق اس قیمتی زیور کی چوری نے میوزیم کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ واقعے کے بعد سکیورٹی انتظامات کا دوبارہ جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کی وارداتوں کو روکا جا سکے۔
نمائش دوبارہ عوام کے لیے کھول دی گئی
واقعہ 27 اگست کو پیش آیا۔ چوری کے بعد میوزیم نے نمائش کو کچھ وقت کے لیے بند کر دیا، تاہم اسی روز اسے دوبارہ عوام کے لیے کھول دیا گیا۔
بعد ازاں 28 اگست کو متاثرہ ڈسپلے کیس کو ایک نیلے پینل سے ڈھانپ دیا گیا۔ میوزیم انتظامیہ کی جانب سے واقعے کی تحقیقات میں پولیس کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی تلاش کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج، عینی شاہدین کے بیانات اور دیگر شواہد کی مدد سے ملزمان تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
میوزیمز میں چوری کے بڑھتے واقعات
دنیا کے بڑے میوزیمز میں قیمتی نوادرات اور زیورات کی چوری کے واقعات ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ گزشتہ برس پیرس کے مشہور لوور میوزیم میں بھی چور دن دہاڑے چند ہی منٹوں میں کروڑوں یورو مالیت کے زیورات لے اڑے تھے۔
اسی طرح اسپین کے قصبے ویلنہ کے ایک میوزیم سے بھی ایک ہزار سال پرانے تاریخی خزانے کی چوری کا واقعہ رپورٹ ہوا تھا۔
ماہرین کے مطابق تاریخی اور قیمتی نوادرات کی نمائش کرنے والے اداروں کے لیے جدید سکیورٹی نظام، مسلسل نگرانی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے مؤثر انتظامات انتہائی اہم ہیں۔
ویانا میں ہونے والی حالیہ واردات نے بھی میوزیمز کی سکیورٹی پر سوالات اٹھا دیے ہیں، کیونکہ اتنے قیمتی اور تاریخی زیور کو دن دہاڑے شیشے کا کیس توڑ کر چوری کر لیا گیا۔
فی الحال پولیس کی جانب سے مشتبہ افراد کی گرفتاری اور قیمتی ہار کی برآمدگی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ حکام کو امید ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی مدد سے ملزمان تک جلد پہنچنے میں کامیابی حاصل ہوگی۔






