مکہ معاہدے پر غیر ملکی خبر ایجنسی کی رپورٹس قیاس آرائی پر مبنی ہیں، وزارت اطلاعات

مکہ معاہدے پر غیر ملکی خبر ایجنسی کی رپورٹس قیاس آرائی پر مبنی ہیں، وزارت اطلاعات

اسلام آباد: وزارت اطلاعات و نشریات نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے غیر ملکی خبر ایجنسی کی رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے انہیں قیاس آرائیوں پر مبنی قرار دیا ہے۔

وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس میں غیر مصدقہ اور نامعلوم ذرائع پر انحصار کیا گیا ہے، اس لیے ایسی قیاس آرائیوں سے گریز کیا جانا چاہیے۔

وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستان سعودی عرب کی سلامتی اور حرمین شریفین کے تحفظ کے حوالے سے اپنا عزم پہلے ہی واضح کر چکا ہے اور اس معاملے پر پاکستان کا مؤقف غیر مبہم ہے۔ وزارت نے کہا کہ اجتماعی دفاعی صلاحیت اور اس کے عملی نفاذ سے متعلق تفصیلات آپریشنل رازداری کا معاملہ ہیں، جنہیں عوامی سطح پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔

بیان میں کہا گیا کہ مکہ معاہدے کے حوالے سے مختلف اعداد و شمار یا آپریشنل تفصیلات غیر مصدقہ ذرائع کی بنیاد پر نشر کرنے کے بجائے متعلقہ حکام کے سرکاری بیانات سے رجوع کیا جانا چاہیے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ سرکاری مؤقف کے مطابق معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا، اجتماعی دفاعی صلاحیت میں اضافہ اور خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔ معاہدے کے تحت کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

مکہ معاہدے کے تحت قائم تذویراتی سیاسی و دفاعی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس بھی 5 اکتوبر کو ریاض میں ہوا، جس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام نے علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ پاکستان نے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔

وزارت اطلاعات نے واضح کیا کہ مکہ معاہدے سے متعلق کسی بھی پیش رفت یا عملی اقدامات کے بارے میں مستند معلومات کے لیے سرکاری بیانات اور متعلقہ حکام کے مؤقف کو ہی بنیاد بنایا جانا چاہیے۔

More News