سائنس دانوں کا حیران کن کارنامہ، مرتے ستارے کی راکھ سے بنا سیارہ دریافت
اسلام آباد: ماہرین فلکیات نے ایک ایسے سیارے کی دریافت کی ہے جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ ایک مرتے ہوئے ستارے کے انتہائی شدید ارتقائی مرحلے کے بعد باقی رہ جانے والے مادے سے وجود میں آیا۔
سائنس دانوں کی اس دریافت نے سیاروں کی تشکیل اور ستاروں کے ارتقائی عمل سے متعلق موجودہ سائنسی تصورات میں نئی دلچسپی پیدا کردی ہے۔ ماہرین کے مطابق ستاروں کی زندگی ایک طویل عرصے پر محیط ہوتی ہے، جس کے دوران وہ مختلف مراحل سے گزرتے ہیں اور بالآخر ان کی ساخت میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ سیارے اپنے ستارے کے گرد موجود گیس اور گردوغبار کی ڈسک سے تشکیل پاتے ہیں۔ تاہم نئی دریافت اس امکان کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ انتہائی مختلف حالات میں بھی سیاروں کی تشکیل ممکن ہو سکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق جس نظام کا مشاہدہ کیا گیا، وہاں موجود ستارے نے اپنی زندگی کے آخری مراحل میں اپنا بیرونی مادہ بڑی مقدار میں خارج کیا۔ اس عمل کے نتیجے میں ستارے کے گرد موجود ماحول میں نمایاں تبدیلیاں پیدا ہوئیں، جبکہ باقی رہ جانے والے مادے نے ایک نئے فلکیاتی جسم کی تشکیل میں کردار ادا کیا۔
ماہرین فلکیات کے لیے اس دریافت کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ انہیں ستاروں اور ان کے گرد موجود سیاروی نظاموں کے ماضی کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ سائنس دان ایسے نظاموں کا مطالعہ کرکے یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ستارے کی موت کے بعد اس کے گرد موجود مادے کے ساتھ کیا ہوتا ہے اور کیا اس مادے سے نئے سیارے وجود میں آ سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق کائنات میں ستاروں کی پیدائش، زندگی اور موت ایک مسلسل عمل ہے اور ہر مرحلہ اپنے اندر نئے سائنسی راز رکھتا ہے۔ نئی دریافت اس بات کا ایک اہم ثبوت ہو سکتی ہے کہ سیاروی نظام ہمیشہ ایک ہی طریقے سے تشکیل نہیں پاتے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مزید مشاہدات اور جدید دوربینوں کی مدد سے اس سیارے اور اس کے نظام کا تفصیلی مطالعہ کیا جائے گا، جس سے مستقبل میں سیاروں کی تشکیل اور ستاروں کے ارتقائی مراحل سے متعلق مزید معلومات سامنے آنے کی توقع ہے۔








