جنریٹو اے آئی کا غیر محتاط استعمال سائبر سیکیورٹی کے لیے خطرہ
نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے جنریٹو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے محفوظ استعمال سے متعلق اداروں کے لیے سیکیورٹی ایڈوائزری جاری کردی ہے۔ ایڈوائزری میں خبردار کیا گیا ہے کہ غیر منظور شدہ اے آئی ٹولز کا غیر محتاط استعمال حساس معلومات، تنظیمی ڈیٹا، سورس کوڈ اور صارفین کی اسناد کے افشا کا سبب بن سکتا ہے۔
نیشنل سرٹ کے مطابق اداروں میں شیڈو اے آئی اور غیر منظور شدہ تھرڈ پارٹی سروسز کا استعمال سائبر سیکیورٹی کے لیے اہم خطرہ بن سکتا ہے۔ اسی طرح پرامپٹ انجیکشن، غیر محفوظ اے آئی سے تیار کردہ کوڈ اور اے آئی سپلائی چین حملوں کو بھی ممکنہ سائبر خطرات میں شامل کیا گیا ہے۔
ایڈوائزری میں اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ جنریٹو اے آئی کے استعمال کے لیے واضح اور قابل قبول پالیسی وضع کی جائے۔ سرکاری، حساس یا خفیہ معلومات کو عوامی یا غیر منظور شدہ اے آئی پلیٹ فارمز پر فراہم نہ کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
نیشنل سرٹ نے اے آئی سے تیار کردہ کوڈ اور اہم نتائج کا انسانی ماہرین سے جائزہ لینے کی سفارش کی ہے۔ اس کے علاوہ ڈیٹا لاس پریوینشن اور مانیٹرنگ کنٹرولز نافذ کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے تاکہ حساس معلومات کے غیر مجاز استعمال یا اخراج کو روکا جاسکے۔
ایڈوائزری کے مطابق اے آئی سے متعلق کسی بھی سیکیورٹی واقعے کی صورت میں فوری طور پر خطرے کو محدود کرنے، شواہد محفوظ کرنے اور واقعے کی رپورٹنگ ضروری ہے۔ اداروں کو اے آئی سپلائی چین سے متعلق ممکنہ حملوں کی بھی فوری اطلاع دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔








