وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف الیکشن کمیشن کیس، پشاور ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا
پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف الیکشن کمیشن کی کارروائی سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس ارشد علی اور جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران الیکشن کمیشن اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے وکلا عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے اپنے دلائل پیش کیے۔
الیکشن کمیشن کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ این اے 18 ہری پور کے ضمنی الیکشن کے دوران انتخابی قوانین کی خلاف ورزی کی گئی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق عمر ایوب کے حق میں منعقدہ جلسہ انتخابی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جبکہ شہری کی شکایت پر انکوائری افسر مقرر کیا گیا تھا۔
الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن ایکٹ کے تحت وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو نوٹسز بھی جاری کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے پاس شفاف انتخابات یقینی بنانے اور غیرقانونی اقدامات روکنے کا اختیار موجود ہے۔ الیکشن کمیشن نے تاحال اس معاملے پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
دوسری جانب سہیل آفریدی کے وکیل نے الیکشن کمیشن کے ازخود نوٹس کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ الیکشن کمیشن خود الزامات عائد کرکے انکوائری کررہا ہے۔ وکیل کے مطابق الیکشن سے قبل الیکشن کمیشن نے ازخود کارروائی شروع کی۔
سماعت کے دوران جسٹس ارشد علی نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن کی انکوائری میں خامی کہاں ہے اور کیا درخواست گزار یہ چاہتا ہے کہ اسے سنے بغیر الیکشن کمیشن فیصلہ کرے۔
دونوں فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا، جو بعد میں سنایا جائے گا۔








