خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانے پر اتفاق، ذرائع کا دعویٰ
اسلام آباد: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے معاملے پر اتفاق رائے سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق صوبے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں ایمرجنسی لگانے کے معاملے پر اتفاق کیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے باضابطہ حکومتی اعلان اور حتمی تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایوان صدر میں ہونے والے اہم اجلاس میں خیبر پختونخوا کی مجموعی صورتحال، امن و امان کے حالات اور ممکنہ آئینی و انتظامی اقدامات پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی شرکت کی اطلاع بھی سامنے آئی تھی۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا معاملہ صوبے کی سیاسی اور انتظامی صورتحال کے حوالے سے اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد سیاسی حلقوں کی توجہ وفاقی حکومت کے آئندہ لائحہ عمل اور ممکنہ فیصلے پر مرکوز ہے۔
صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان اختلافات کے باعث سیاسی ماحول پہلے ہی گرم ہے۔ ایسے میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق کسی بھی فیصلے کے قانونی، آئینی اور انتظامی اثرات اہم ہوں گے۔
آئین پاکستان میں ہنگامی اقدامات کے لیے مخصوص طریقہ کار اور شرائط موجود ہیں۔ کسی بھی ایسے اقدام کی نوعیت، اس کے نفاذ کا طریقہ اور متعلقہ حکام کے اختیارات کا تعین آئینی و قانونی تقاضوں کے مطابق کیا جاتا ہے۔ اس لیے ایمرجنسی سے متعلق اطلاعات کی حتمی حیثیت جاننے کے لیے سرکاری اعلامیے اور متعلقہ حکام کے بیانات اہم ہوں گے۔
تاحال ایمرجنسی کے نفاذ کی حتمی تاریخ، طریقہ کار اور ممکنہ اقدامات کی تفصیلات باضابطہ طور پر واضح نہیں ہوئیں۔ ذرائع سے سامنے آنے والی اطلاعات کو سرکاری تصدیق سے مشروط سمجھا جانا چاہیے۔
حکومتی اعلامیہ جاری ہونے کے بعد ہی واضح ہو سکے گا کہ اجلاس میں کیا فیصلے کیے گئے، ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق اتفاق کی نوعیت کیا ہے اور اس حوالے سے اگلا قدم کیا ہوگا۔ فی الحال صوبے کی سیاسی صورتحال میں اس معاملے کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔








