خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کیوں نہ لگے؟ دو سال میں دہشت گردی کے 6,200 واقعات، 1,200 افراد جاں بحق

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کیوں نہ لگے؟ دو سال میں دہشت گردی کے 6,200 واقعات، 1,200 افراد جاں بحق

پشاور: خیبرپختونخوا میں گزشتہ دو سال کے دوران دہشت گردی کے تقریباً 6 ہزار 200 واقعات اور 1,200 افراد کی ہلاکتوں سے متعلق اعداد و شمار نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ دہشت گردی کے مسلسل خطرات کے تناظر میں انسدادِ دہشت گردی کی حکمت عملی، پولیس کی استعداد اور سکیورٹی وسائل کی فراہمی کا جائزہ لینے کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔

فراہم کردہ معلومات کے مطابق یہ اعداد و شمار وزیر دفاع خواجہ آصف نے 5 اکتوبر کو جاری کیے تھے۔ ان اعداد و شمار کی روشنی میں صوبے میں دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام، حملوں میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ سے متعلق اقدامات اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔

حکومتی ذرائع کے مطابق گزشتہ دو سال کے دوران 37 خودکش حملے افغان شہریوں سے منسوب کیے گئے، جبکہ رواں سال 14 خودکش حملوں کی نشاندہی کی گئی، جن میں اکثریت افغان شہریوں کی بتائی گئی ہے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اور ہر واقعے کی تفصیلی معلومات کے بغیر ان اعداد و شمار کی مزید تشریح احتیاط سے کی جانی چاہیے۔

پولیس نفری اور خالی آسامیوں کا معاملہ

حکومتی ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا پولیس کی مجموعی نفری تقریباً ایک لاکھ 25 ہزار اہلکاروں پر مشتمل ہے۔ ان میں سے لگ بھگ 13 ہزار اہلکار وی آئی پی سکیورٹی اور پروٹوکول پر تعینات ہیں، جبکہ تقریباً 17 ہزار آسامیاں خالی ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ان اعداد و شمار کے تناظر میں یہ سوال اہم ہے کہ دہشت گردی سے متاثرہ اضلاع میں پولیس کی دستیابی، اہلکاروں کی تربیت اور حفاظتی سازوسامان کی فراہمی کو کس طرح بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ پولیس کی ضروریات پوری کرنا اور حساس علاقوں میں سکیورٹی انتظامات مضبوط بنانا انسدادِ دہشت گردی کی حکمت عملی کے اہم پہلو ہیں۔

سی ٹی ڈی کی استعداد اور وسائل

ضم شدہ اضلاع میں محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی استعداد بھی زیر بحث ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق سی ٹی ڈی میں تقریباً 3,300 اہلکار تعینات ہیں اور ادارے کے پاس 17 بلٹ پروف گاڑیاں موجود ہیں۔

سی ٹی ڈی کی افرادی قوت، تفتیشی سہولتوں، جدید ٹیکنالوجی اور فیلڈ آپریشنز کے لیے دستیاب وسائل کا جائزہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی مؤثریت سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اسی طرح خالی آسامیوں کو پُر کرنے اور اہلکاروں کو جدید تربیت فراہم کرنے کی ضرورت بھی اہم ہے۔

پولیس چوکیوں کے لیے فنڈز کا سوال

حکومتی ذرائع کے مطابق پولیس چوکیوں کی تعمیرِ نو اور مضبوطی کے لیے 42 ارب روپے طلب کیے گئے تھے، تاہم صوبائی حکومت کی جانب سے صرف ایک ارب 20 کروڑ روپے جاری کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں فنڈز کی منظوری، اجرا اور استعمال کی تفصیلات سامنے آنا ضروری ہے تاکہ سکیورٹی ضروریات اور مالی وسائل کے درمیان فرق کا واضح اندازہ لگایا جا سکے۔

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ سے متعلق بحث کے دوران یہ اعداد و شمار اہمیت رکھتے ہیں، تاہم ایمرجنسی یا گورنر راج کا فیصلہ آئینی، قانونی اور انتظامی تقاضوں کو سامنے رکھ کر کیا جانا چاہیے۔ صوبے میں امن و امان بہتر بنانے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تعاون، پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد میں اضافہ اور سکیورٹی فنڈز کے شفاف استعمال پر توجہ ضروری ہے۔

More News