وزیراعظم کی ہدایت پر خیبرپختونخوا کے امور کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل قائم

وزیراعظم کی ہدایت پر خیبرپختونخوا کے امور کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل قائم

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کے انتظامی امور چلانے کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل قائم کردی ہے۔ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اس کونسل کی سربراہی کریں گے، جو صوبے کے مختلف محکموں کے معاملات کی نگرانی اور انتظامی امور چلانے میں گورنر کی معاونت کرے گی۔

یہ اقدام خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد کیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کے فیصلے کے تحت صوبائی حکومت کے انتظامی اختیارات گورنر کو منتقل کردیے گئے ہیں، جبکہ مشاورتی کونسل مختلف شعبوں میں ذمہ داریاں سنبھالے گی۔

وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے 11 اکتوبر کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے مشورے پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد صوبائی حکومت کے انتظامی معاملات چلانے کے لیے نئی مشاورتی کونسل تشکیل دی گئی۔

مشاورتی کونسل میں مختلف شعبوں کے تجربہ کار افراد کو شامل کیا گیا ہے۔ کفایت اللہ خان کو داخلہ اور قبائلی امور، طارق محمود پاشا کو خزانہ، ریونیو، ایکسائز اور ٹیکسیشن، جبکہ عامر جاوید کو قانون اور پارلیمانی امور کی ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔

ڈاکٹر سید عامر عبداللہ تعلیم، ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر خان صحت، ڈاکٹر سرفراز علی شاہ معدنیات، ڈاکٹر محمد ارشاد صنعت و تجارت اور آصف رفیق کو مواصلات و تعمیرات، بلدیات، ہاؤسنگ اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔

عثمان سیف اللہ خان توانائی، بجلی، منصوبہ بندی اور ترقیاتی امور دیکھیں گے، جبکہ مولانا محمد طیب قریشی کو اوقاف اور مذہبی امور اور قومی اسمبلی کی رکن سمر ہارون بلور کو اطلاعات و نشریات کا قلمدان دیا گیا ہے۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے کونسل کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے امن و امان کی بحالی، دہشت گردی کے خاتمے، تعلیم، صحت، روزگار اور بہتر حکمرانی کو اہم ترجیحات قرار دیا۔ انہوں نے متعلقہ ارکان کو محکموں کی بریفنگ لینے اور انتظامی امور تیز کرنے کی ہدایت بھی کی۔

وفاقی حکومت نے 12 اضلاع کے امور کے لیے الگ سیکریٹریٹ قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ حکومت کے مطابق ان اقدامات کا مقصد انتظامی نگرانی بہتر بنانا، امن و امان کی صورتحال میں بہتری لانا اور ترقیاتی سرگرمیوں کو آگے بڑھانا ہے۔

More News