دنیا بھر میں وقت کے نظام میں بڑی تبدیلی، لیپ سیکنڈ ختم کرنے کا فیصلہ

دنیا بھر میں وقت کے نظام میں بڑی تبدیلی، لیپ سیکنڈ ختم کرنے کا فیصلہ

دنیا بھر میں وقت کی پیمائش اور معیاری وقت کے نظام کی نگرانی کرنے والے اداروں نے لیپ سیکنڈ کے مستقبل کے حوالے سے اہم فیصلہ کیا ہے۔ اس تبدیلی کا مقصد عالمی وقت کے نظام کو جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل نیٹ ورکس اور جدید مواصلاتی نظام کے لیے زیادہ مستحکم اور قابلِ اعتماد بنانا ہے۔

لیپ سیکنڈ ایک اضافی سیکنڈ ہوتا ہے جسے ضرورت پڑنے پر عالمی معیاری وقت (UTC) میں شامل کیا جاتا ہے تاکہ ایٹمی گھڑیوں کے وقت اور زمین کی گردش سے طے ہونے والے وقت کے درمیان فرق کو محدود رکھا جا سکے۔ زمین کی گردش کی رفتار مستقل نہیں رہتی، اسی لیے دونوں نظاموں کے درمیان معمولی فرق پیدا ہوتا رہتا ہے۔

ماضی میں لیپ سیکنڈ شامل کرنے کا مقصد یہ یقینی بنانا تھا کہ عالمی معیاری وقت زمین کی گردش کے ساتھ مناسب حد تک ہم آہنگ رہے۔ تاہم، جدید کمپیوٹر نیٹ ورکس، سیٹلائٹ نیویگیشن، مالیاتی نظام اور ٹیلی کمیونی کیشن کے شعبوں میں وقت کے انتہائی درست تعین کی ضرورت کے باعث لیپ سیکنڈ کے استعمال سے تکنیکی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

بین الاقوامی ادارے بیورو انٹرنیشنل ڈیس پوئڈز ایٹ میژرز (BIPM) کے تحت عالمی وقت کے نظام میں تبدیلی پر کام کیا جا رہا ہے۔ 2022 میں منظور ہونے والی قرارداد کے مطابق لیپ سیکنڈ کے استعمال کو ختم کرنے کے لیے 2035 تک کی مدت مقرر کی گئی تھی، جبکہ اکتوبر 2026 میں سامنے آنے والی نئی پیش رفت کے مطابق اس تبدیلی کو مئی 2027 سے نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس تبدیلی کے بعد عالمی معیاری وقت کو زمین کی گردش کے ساتھ ہم آہنگ رکھنے کے لیے ہر چند سال بعد ایک سیکنڈ شامل کرنے کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔ اس کے بجائے ایٹمی گھڑیوں کے ذریعے وقت کا تسلسل برقرار رکھا جائے گا، جبکہ زمین کی گردش اور عالمی وقت کے درمیان فرق کو قابلِ قبول حد کے اندر رہنے دیا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے انٹرنیٹ، سیٹلائٹ نیویگیشن، ٹیلی کمیونی کیشن، توانائی کے نظام اور مالیاتی نیٹ ورکس کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، کیونکہ ان شعبوں میں وقت کی درست مطابقت انتہائی اہم ہوتی ہے۔ لیپ سیکنڈ شامل کرنے کے عمل سے ماضی میں بعض کمپیوٹر سسٹمز اور آن لائن خدمات میں تکنیکی مسائل بھی پیدا ہوئے تھے۔

یہ تبدیلی عام لوگوں کے لیے گھڑیوں کے روزمرہ استعمال میں فوری فرق پیدا نہیں کرے گی، تاہم عالمی سطح پر وقت کی پیمائش اور ڈیجیٹل نظاموں کی مطابقت برقرار رکھنے کے طریقہ کار میں اہم تبدیلی ہوگی۔

More News