وزیراعظم شہباز شریف کی ایف بی آر اصلاحات تیز کرنے کی ہدایت، بدعنوان عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کا حکم

وزیراعظم شہباز شریف کی ایف بی آر اصلاحات تیز کرنے کی ہدایت، بدعنوان عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کا حکم

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں جاری اصلاحات کے ابتدائی نتائج کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے ادارے میں اصلاحات کی رفتار مزید تیز کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ وزیراعظم نے بدعنوان عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کا حکم دیتے ہوئے واضح کیا کہ ادارے میں شفافیت، کارکردگی اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ایف بی آر میں ایسے افسران اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے جو بدعنوانی یا اختیارات کے ناجائز استعمال میں ملوث پائے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ احتساب کے عمل میں کسی قسم کی رعایت نہیں ہونی چاہیے اور تمام متعلقہ افراد کے ساتھ یکساں اصولوں کے تحت معاملہ کیا جائے۔

شہباز شریف نے اس کے ساتھ یہ بھی ہدایت کی کہ اپنے رویے اور کارکردگی میں بہتری لانے والے افسران اور عملے کو اصلاح کا موقع فراہم کیا جائے۔ اس اقدام کا مقصد ادارے میں پیشہ ورانہ ماحول کو فروغ دینا، ملازمین کی کارکردگی بہتر بنانا اور اصلاحات کے عمل میں ان کی مؤثر شمولیت یقینی بنانا ہے۔

ایف بی آر ملکی محصولات جمع کرنے والا اہم قومی ادارہ ہے، جس کی کارکردگی کا براہ راست تعلق حکومتی آمدن، ٹیکس نظام اور قومی معیشت سے ہے۔ ٹیکس وصولیوں میں بہتری اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا حکومت کی اہم معاشی ترجیحات میں شامل ہے۔

پاکستان میں ٹیکس نظام کو مؤثر بنانے کے لیے ڈیجیٹلائزیشن، ٹیکس چوری کی روک تھام، ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کرنے اور محصولات کی وصولی میں شفافیت بڑھانے جیسے اقدامات اہم سمجھے جاتے ہیں۔ ایف بی آر میں اصلاحات کے ذریعے ان امور کو بہتر بنانے اور قومی خزانے کے لیے آمدن بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ادارے میں اصلاحات کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ بدعنوانی کے خلاف مؤثر نگرانی، شفاف احتساب اور ملازمین کی تربیت پر توجہ دی جائے۔ اس کے ساتھ ٹیکس دہندگان کے لیے طریقہ کار آسان بنانے سے بھی ٹیکس نظام پر اعتماد بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔

وزیراعظم کی تازہ ہدایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت ایف بی آر کی کارکردگی بہتر بنانے اور اصلاحاتی عمل کو آگے بڑھانے پر توجہ دے رہی ہے۔ آئندہ عرصے میں ان اقدامات کے نتائج کا اندازہ ٹیکس وصولیوں، ادارہ جاتی کارکردگی اور ٹیکس دہندگان کو فراہم کی جانے والی سہولتوں سے لگایا جا سکے گا۔

More News