لاہور ہائیکورٹ کا ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کے حق میں فیصلہ، دو سال بعد انکوائری ختم کرنے کا حکم
لاہور ہائیکورٹ نے ریٹائرڈ سرکاری ملازمین سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے دو سال بعد محکماتی انکوائری خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کے بعد محکماتی کارروائی کے لیے مقررہ مدت کی پابندی اہم ہے۔ اس فیصلے کو ریٹائرڈ ملازمین کے حقوق اور ان کے خلاف طویل عرصے تک جاری رہنے والی انکوائریوں کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
محکماتی انکوائری عموماً کسی سرکاری ملازم کے خلاف بدعنوانی، اختیارات کے مبینہ غلط استعمال، مالی بے ضابطگیوں یا دیگر خلاف ورزیوں کے الزامات کی جانچ کے لیے کی جاتی ہے۔ تاہم، ریٹائرمنٹ کے بعد ایسی کارروائی جاری رکھنے کے لیے متعلقہ قوانین اور قواعد کی پابندی ضروری ہوتی ہے۔
عدالت کے اس فیصلے سے ان ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے جن کے خلاف ریٹائرمنٹ کے طویل عرصے بعد بھی محکماتی انکوائریاں زیرِ التوا ہیں۔ اس سے ملازمین کے قانونی حقوق اور سرکاری محکموں کی جانب سے کارروائی مکمل کرنے کے لیے مقررہ مدت کی اہمیت بھی اجاگر ہوتی ہے۔
تاہم فیصلے کا اطلاق متعلقہ مقدمے کے حقائق، قابلِ اطلاق سروس قوانین اور عدالتی حکم کی مکمل عبارت کے مطابق ہوگا۔ فیصلے کی مزید تفصیلات سامنے آنے پر اس کے دائرہ کار اور ممکنہ قانونی اثرات کے بارے میں زیادہ واضح معلومات مل سکیں گی۔








