نوے کروڑ روپے کے فنڈز پر علی امین گنڈاپور اور شاندانہ گلزار کے درمیان اختلافات، لیکڈ آڈیو سامنے آگئی
پاکستان تحریک انصاف کے اندر قیدیوں اور کارکنوں کے لیے جمع کیے گئے فنڈز کے معاملے پر اختلافات سامنے آگئے ہیں۔ پی ٹی آئی رہنما شاندانہ گلزار نے تقریباً 90 کروڑ روپے کے فنڈز کے استعمال اور شفافیت سے متعلق سوالات اٹھاتے ہوئے مالی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاندانہ گلزار نے دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے اپنی ذاتی رقم اور زمینیں فروخت کرکے قیدیوں کے لیے 40 کروڑ روپے فراہم کیے، جبکہ تقریباً 50 کروڑ روپے بیرون ملک سے جمع کیے گئے تھے۔
شاندانہ گلزار کے مطابق ان کے بقول، مجموعی طور پر 90 کروڑ روپے کی رقم ان قیدیوں اور کارکنوں تک نہیں پہنچی جن کے نام پر فنڈز اکٹھے کیے گئے تھے۔ انہوں نے تحریک انصاف کے مالی معاملات میں شفافیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے پاس بیرون ملک یا پاکستان میں کوئی سرکاری اکاؤنٹ موجود نہیں۔
پی ٹی آئی رہنما نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ مبینہ طور پر فرضی این جی اوز کے ذریعے فنڈز کے استعمال پر سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ افراد فنڈز کے استعمال اور اخراجات کی وضاحت کریں۔
فنڈز کے معاملے پر علی امین گنڈاپور اور شاندانہ گلزار کے درمیان لفظی اختلافات کی اطلاعات کے ساتھ ایک مبینہ لیکڈ آڈیو بھی سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم فراہم کردہ معلومات میں آڈیو کی آزادانہ تصدیق، فنڈز کے حتمی استعمال یا الزامات کے جواب کی تفصیلات موجود نہیں ہیں۔
یہ الزامات ہیں؛ فنڈز میں بے ضابطگی یا رقم کے غلط استعمال کی حتمی تصدیق کے لیے متعلقہ ریکارڈ اور فریقین کا مؤقف سامنے آنا ضروری ہے۔








