جماعت اسلامی کا لانگ مارچ نومبر کے وسط میں ہوگا، حافظ نعیم الرحمٰن
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے اعلان کیا ہے کہ جماعت اسلامی کا لانگ مارچ نومبر کے وسط میں ہوگا اور اسے ملتوی نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے جماعت اسلامی سے مزید سات سے دس روز کی مہلت دینے کی درخواست کی ہے، تاہم لانگ مارچ کے انعقاد کا فیصلہ برقرار ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی اپنے اعلان کے مطابق احتجاجی تحریک آگے بڑھائے گی۔ ان کے مطابق لانگ مارچ کا مقصد جماعت کے مطالبات کو حکومتی سطح پر اجاگر کرنا اور عوامی مسائل کے حل کے لیے دباؤ بڑھانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے مزید وقت مانگنے کے باوجود جماعت اسلامی نے لانگ مارچ ملتوی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے سات سے دس روز کی مہلت کی درخواست کے حوالے سے مزید تفصیلات اور اس کے پس منظر پر آئندہ دنوں میں صورت حال واضح ہو سکتی ہے۔
جماعت اسلامی کی جانب سے احتجاجی سرگرمیوں کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں مہنگائی، بجلی کے بلوں، ٹیکسوں اور عوام پر معاشی دباؤ جیسے معاملات سیاسی بحث کا حصہ ہیں۔ جماعت اسلامی ماضی میں بھی عوامی مسائل اور معاشی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریکیں چلا چکی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق لانگ مارچ جیسے احتجاجی اقدامات حکومت اور سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کے عمل پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ تاہم، کسی بھی احتجاجی تحریک کے نتائج کا انحصار اس کے مطالبات، عوامی شرکت اور حکومت کے ردعمل پر ہوتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن کے اعلان کے بعد جماعت اسلامی کی آئندہ حکمت عملی، لانگ مارچ کے روٹ، شرکا کی تعداد اور انتظامات سے متعلق تفصیلات اہم ہوں گی۔ حکومت کی جانب سے مزید مہلت طلب کیے جانے کے معاملے پر مذاکرات کی پیش رفت بھی سیاسی صورت حال پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
جماعت اسلامی نے اپنے اعلان کے ذریعے واضح کیا ہے کہ نومبر کے وسط میں لانگ مارچ کرنے کا فیصلہ برقرار ہے۔ اب حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان رابطوں اور مطالبات پر پیش رفت کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار ہے۔








