مولانا ناراض ہوتے ہیں تو ہوتے رہیں، گورنر سے ملاقاتیں جاری رہیں گی: صدف احسان

مولانا ناراض ہوتے ہیں تو ہوتے رہیں، گورنر سے ملاقاتیں جاری رہیں گی: صدف احسان

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کی رکن قومی اسمبلی صدف احسان نے پارٹی سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ اختلافات کے حوالے سے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے حلقے کے عوامی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گی اور خیبر پختونخوا کے گورنر سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھیں گی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدف احسان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن پہلے بھی ان سے اور ان کے خاندان سے ناراض رہے ہیں، تاہم وہ اپنے حلقے کے عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گی۔ ان کے مطابق کسی کی ناراضی کی وجہ سے عوامی فلاح و بہبود کے کاموں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

صدف احسان نے جے یو آئی کے لیے اپنی اور اپنے خاندان کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پارٹی کے لیے مالی تعاون کیا، ذاتی وسائل خرچ کیے اور جماعت کی بہتری کے لیے ہر ممکن کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہمیشہ پارٹی کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق خدمات انجام دی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ 2016 میں پاکستان پیپلز پارٹی چھوڑ کر جے یو آئی میں شامل ہوئی تھیں، کیونکہ وہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ نہیں جانا چاہتی تھیں۔ ان کے اس بیان کو پارٹی قیادت کے ساتھ موجود اختلافات کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

گورنر خیبر پختونخوا کے ساتھ ملاقاتوں سے متعلق سوال کے جواب میں صدف احسان نے کہا کہ اگر گورنر اور ان کے خاندان کے درمیان مراسم ہیں اور گورنر ان کے علاقے میں ترقیاتی منصوبوں، سڑکوں، موٹروے اور عوامی فلاح کے اقدامات کے لیے کام کر رہے ہیں تو وہ کسی کے کہنے پر ان سے رابطے ختم نہیں کریں گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنے حلقے کے مسائل اجاگر کرنے اور عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے گورنر سے ملاقاتیں کرتی رہیں گی۔ ان کے مطابق منتخب نمائندے کی بنیادی ذمہ داری عوام کے مسائل حل کرنا اور ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھانا ہے۔

صدف احسان کے اس بیان سے جے یو آئی کی قیادت کے ساتھ ان کے اختلافات ایک بار پھر نمایاں ہوئے ہیں۔ تاہم پارٹی قیادت کی جانب سے اس معاملے پر ردعمل سامنے آنے کی صورت میں صورت حال مزید واضح ہو سکتی ہے۔

More News