روساٹوم کے ایران میں 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط

روساٹوم کے ایران میں 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط

روسی جوہری توانائی کمپنی روساٹوم نے ایران میں آٹھ جوہری پاور یونٹس کی تعمیر سے متعلق معاہدوں پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس منصوبے میں چھوٹے جوہری بجلی گھر تعمیر کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

ان معاہدوں کو ایران اور روس کے درمیان جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ منصوبے کے تحت جوہری بجلی کی پیداوار کے لیے نئے یونٹس کی تعمیر پر کام کیا جائے گا، جس سے ایران کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

جوہری توانائی کو بجلی پیدا کرنے کے اہم ذرائع میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس طریقے میں جوہری عمل سے پیدا ہونے والی حرارت استعمال کرکے بجلی تیار کی جاتی ہے۔ جوہری بجلی گھر مسلسل بجلی کی فراہمی میں کردار ادا کر سکتے ہیں، تاہم ان کی تعمیر کے لیے جدید ٹیکنالوجی، بھاری سرمایہ کاری، سخت حفاظتی انتظامات اور طویل مدتی منصوبہ بندی درکار ہوتی ہے۔

معاہدوں میں چھوٹے جوہری بجلی گھروں کی تعمیر بھی شامل ہونا اس منصوبے کا ایک اہم پہلو ہے۔ چھوٹے جوہری ری ایکٹرز کو بعض حالات میں نسبتاً کم بجلی کی ضرورت رکھنے والے علاقوں یا مخصوص توانائی منصوبوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ان کی عملی افادیت کا انحصار منصوبے کے ڈیزائن، لاگت، حفاظتی تقاضوں اور بجلی کے نظام سے مطابقت پر ہوتا ہے۔

روس کی جوہری توانائی کی صنعت مختلف ممالک میں جوہری بجلی گھروں کی تعمیر اور متعلقہ ٹیکنالوجی کی فراہمی میں سرگرم ہے۔ ایران کے ساتھ تعاون بھی دونوں ممالک کے توانائی تعلقات کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔

تاہم، آٹھوں پاور یونٹس کی مجموعی پیداواری صلاحیت، تعمیراتی مقامات، منصوبے کی لاگت اور تکمیل کے متوقع وقت سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے پر اس معاہدے کے عملی دائرہ کار کا بہتر اندازہ لگایا جا سکے گا۔

More News