ایران کو مکمل تباہ نہ کرنے پر بعض لوگ مجھ سے ناراض ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جنگ کے بیشتر عرصے کے دوران امریکا نے حقیقتاً لڑائی نہیں کی، تاہم ایران کو مکمل طور پر تباہ نہ کرنے پر بعض لوگ ان سے ناراض ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے مطابق امریکا نے جنگ کے دوران اپنی کارروائیوں میں ایک خاص حد تک محتاط رویہ اختیار کیا، جبکہ بعض حلقے چاہتے تھے کہ ایران کے خلاف مزید سخت اقدامات کیے جاتے۔ امریکی صدر نے کہا کہ ایران کو مکمل طور پر تباہ نہ کرنے کے معاملے پر انہیں تنقید کا سامنا ہے۔
ٹرمپ کے اس بیان نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ سے متعلق امریکی حکمت عملی پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف کارروائیوں کے دائرہ کار اور شدت کے حوالے سے امریکی سیاسی حلقوں میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان تنازع خطے کی سلامتی، عالمی سیاست اور معیشت پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی کے باعث سفارتی کوششوں اور ممکنہ مذاکرات کو بھی اہمیت حاصل ہے۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات اور ایک دوسرے کے مطالبات پر اتفاق رائے کی کوششیں عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ دونوں ممالک کے آئندہ اقدامات خطے کی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔








