راولپنڈی اور اٹک میں این سی سی آئی اے کی کارروائیاں، چائلڈ پورنوگرافی اور بلیک میلنگ کے الزام میں 2 ملزمان گرفتار
راولپنڈی: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے راولپنڈی اور اٹک میں کارروائیاں کرتے ہوئے چائلڈ پورنوگرافی اور کم عمر بچوں کو بلیک میل کرنے کے الزامات میں دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
ترجمان کے مطابق این سی سی آئی اے کی ٹیموں نے خفیہ معلومات اور تکنیکی شواہد کی بنیاد پر مختلف مقامات پر کارروائیاں کیں۔ گرفتار ملزمان پر کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے نشانہ بنانے، ان کا قابل اعتراض مواد تیار کرنے اور اسے بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرنے کے الزامات ہیں۔
حکام کے مطابق ملزمان کی سرگرمیوں کا سراغ لگانے کے لیے جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سائبر فرانزک طریقہ کار سے مدد لی گئی۔ کارروائیوں کے دوران ملزمان کے زیر استعمال الیکٹرانک آلات اور دیگر ممکنہ شواہد بھی تحویل میں لیے گئے۔
تحقیقات کے دوران ضبط کیے گئے موبائل فونز اور ڈیجیٹل آلات کا فرانزک تجزیہ کیا جائے گا تاکہ مبینہ جرائم سے متعلق مزید شواہد حاصل کیے جا سکیں۔ حکام اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا ملزمان کے ساتھ مزید افراد بھی اس سرگرمی میں ملوث ہیں۔
این سی سی آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ کم عمر بچوں کا استحصال، ان کی نجی تصاویر یا ویڈیوز کے ذریعے بلیک میلنگ اور غیر قانونی مواد کی تیاری سنگین جرائم ہیں۔ ایسے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
ادارے نے والدین، اساتذہ اور شہریوں پر زور دیا ہے کہ بچوں کو آن لائن سرگرمیوں کے دوران محتاط رہنے کی تربیت دیں اور کسی بھی قسم کی سائبر ہراسانی، بلیک میلنگ یا استحصال کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دیں۔
ماہرین کے مطابق بچوں کی ڈیجیٹل حفاظت کے لیے والدین کی نگرانی، آن لائن رازداری اور مشکوک رابطوں کی بروقت اطلاع دینا انتہائی اہم ہے۔








