دوبارہ جنگ چھڑنے سے کسی فریق کو فائدہ نہیں ہوگا، ایرانی صدر
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ دوبارہ جنگ چھڑنے سے کسی بھی فریق کو فائدہ حاصل نہیں ہوگا، جبکہ خطے میں موجود مسائل کا حل تصادم کے بجائے امن اور استحکام میں پوشیدہ ہے۔
ایرانی صدر کے مطابق جنگ اور فوجی تصادم سے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے امن کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے تصادم سے گریز کرنا ضروری ہے۔
مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ تنازعات کے حل کے لیے پرامن راستہ اختیار کیا جانا چاہیے، کیونکہ جنگ کے اثرات صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا خطہ اس سے متاثر ہوتا ہے۔
خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایرانی صدر کا یہ بیان اہمیت رکھتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کسی بھی نئے فوجی تصادم سے علاقائی سلامتی، عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور تجارتی راستوں پر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ موجود ہے۔
ایرانی صدر نے اپنے بیان میں امن اور استحکام کو مسائل کے حل کا بنیادی راستہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق دوبارہ جنگ شروع ہونے سے کسی بھی فریق کو فائدہ نہیں ہوگا، اس لیے تنازعات کے حل کے لیے تصادم کے بجائے پرامن کوششوں کو ترجیح دینی چاہیے۔







