پیٹرول سبسڈی پر 28 ارب روپے خرچ، سردیوں میں توانائی کی قلت نہیں ہوگی، وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے یقین دہانی کرائی ہے کہ سردیوں کے دوران ملک میں ایل این جی، ایل پی جی، پیٹرول اور توانائی کے دیگر ذرائع کی طلب پوری کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور قیمتوں کو بھی قابو میں رکھنے کی کوشش جاری ہے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافے کا بوجھ عام شہریوں پر منتقل ہونے سے روکا اور ریفائنریز کو غیر معمولی منافع میں حصہ ڈالنے کا پابند بنایا۔ ان کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 9 روپے فی لیٹر کمی بھی کی گئی ہے۔
شہباز شریف نے بتایا کہ فیول سبسڈی پروگرام سے اب تک ڈیڑھ کروڑ افراد مستفید ہو چکے ہیں اور اس مد میں 28 ارب روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام دسمبر کے اختتام تک جاری رہے گا۔ وزیراعظم نے سبسڈی میں بے ضابطگیوں کے مرتکب پیٹرول پمپس کے خلاف سخت کارروائی، بھاری جرمانے اور انہیں بند کرنے کی ہدایت بھی کی۔
ایل پی جی کی درآمد سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ نئے نظام کے تحت سرکاری ادارے بھی ایل پی جی درآمد کریں گے اور اسے چھوٹے لاٹس میں کھلی نیلامی کے ذریعے فروخت کیا جائے گا۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اجلاس کو بتایا کہ ملک میں یومیہ 7 ہزار ٹن ایل پی جی کی ضرورت ہے، جس میں سے 2 ہزار 500 ٹن مقامی طور پر پیدا ہوتی ہے۔
وزیراعظم نے خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کے ترقیاتی اور سکیورٹی پیکج کا ذکر کرتے ہوئے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے پاکستان کے کامیاب ایئر ٹو ایئر میزائل تجربے پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے اس کا سہرا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ان کی ٹیم اور متعلقہ اداروں کو دیا۔
شہباز شریف نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو گروپ آف 24 کی چیئرمین شپ ملنے پر بھی مبارکباد دی۔








