سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کا گیس رائلٹی کی 20 سالہ تفصیلات طلب کرنے کا فیصلہ
کراچی: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم نے وزارتِ پیٹرولیم سے گیس کمپنیوں کی جانب سے صوبائی حکومتوں کو ادا کی جانے والی رائلٹی کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ کمیٹی نے گزشتہ 20 سال کے دوران صوبوں کو ملنے والی رائلٹی کا مکمل ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
سینیٹر جام سیف اللہ دھاریجو نے کہا کہ وزارتِ پیٹرولیم، سندھ حکومت کے محکمہ خزانہ اور محکمہ توانائی آئندہ اجلاس میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ملنے والی تمام رائلٹی کی تفصیلات سینیٹ کمیٹی کے سامنے پیش کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ ادارے ریکارڈ مرتب کرکے کمیٹی کو فراہم کریں تاکہ اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔
قائمہ کمیٹی کی جانب سے یہ تفصیلات طلب کرنے کا مقصد گیس کمپنیوں کی طرف سے صوبائی حکومتوں کو ادا کی جانے والی رائلٹی کے معاملات کا جائزہ لینا ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ 20 سال کا ریکارڈ اہمیت رکھتا ہے، جس سے یہ معلوم کیا جا سکے گا کہ مختلف صوبوں کو کس مدت میں کتنی رائلٹی ادا کی گئی۔
پاکستان میں قدرتی گیس کی پیداوار اور اس سے حاصل ہونے والے مالی فوائد کی تقسیم ایک اہم معاملہ ہے۔ گیس پیدا کرنے والے علاقوں اور صوبوں کو رائلٹی کی ادائیگی سے متعلق معلومات شفافیت اور مالیاتی نگرانی کے تناظر میں اہم سمجھی جاتی ہیں۔
کمیٹی کی ہدایت کے مطابق آئندہ اجلاس میں وزارتِ پیٹرولیم اور سندھ حکومت کے متعلقہ محکموں کو مطلوبہ اعداد و شمار پیش کرنا ہوں گے۔ ان تفصیلات میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران صوبائی حکومتوں کو ملنے والی رائلٹی کا ریکارڈ شامل ہوگا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں رائلٹی کی تفصیلات پیش ہونے کے بعد اس معاملے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے اور متعلقہ اداروں سے مزید وضاحت حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔







