چین نے انٹارکٹیکا میں نگرانی مضبوط کرنے کے لیے نیا قانون منظور کرلیا

چین نے انٹارکٹیکا میں نگرانی اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے نیا قانون منظور کرلیا

چین نے انٹارکٹیکا میں اپنی سائنسی سرگرمیوں کو فروغ دینے، نگرانی کا نظام مضبوط بنانے اور ماحولیاتی تحفظ یقینی بنانے کے لیے نیا قانون منظور کرلیا ہے، جس کے تحت تحقیق، سیاحت، جہاز رانی اور دیگر سرگرمیوں کے لیے سخت ماحولیاتی اور حفاظتی شرائط پوری کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

نئے قانون کا مقصد انٹارکٹیکا میں چین کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو منظم کرنے کے ساتھ سائنسی تحقیق کو وسعت دینا اور اس خطے میں قومی سرگرمیوں، اثاثوں اور دیگر مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ قانون کی منظوری کے بعد انٹارکٹیکا میں کام کرنے والے چینی اداروں اور متعلقہ سرگرمیوں کے لیے ماحولیاتی ضوابط کی پابندی ضروری ہوگی۔

قانون کے تحت انٹارکٹیکا کے قدرتی ماحول، جنگلی حیات اور نباتات کے تحفظ کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ وہاں موجود جانوروں اور پودوں کو نقصان پہنچانے سے گریز، کچرے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے، سمندری آلودگی کی روک تھام اور ماحول پر منفی اثرات کم کرنے کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ انٹارکٹیکا میں چینی تحقیقی مشنز، سیاحتی سرگرمیوں، جہاز رانی اور دیگر منصوبوں کے لیے ماحولیاتی تحفظ اور سلامتی سے متعلق مقررہ شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ اس اقدام کو خطے میں چین کی سرگرمیوں کی نگرانی اور جوابدہی بہتر بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

چین گزشتہ دو سال سے انٹارکٹیکا میں فضائی ماحول کی نگرانی کے لیے ایک مرکز بھی چلا رہا ہے۔ اس مرکز میں فضائی حالات اور موسمیاتی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا جاتا ہے، جبکہ وہاں سے حاصل ہونے والی معلومات عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے کی کوششوں میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔

دوسری جانب چین اور امریکا سمیت بڑی عالمی طاقتیں انٹارکٹیکا اور آرکٹک کے قطبی علاقوں میں اپنی موجودگی اور سائنسی سرگرمیاں بڑھا رہی ہیں۔ ان علاقوں میں تحقیق کے ساتھ قدرتی وسائل کی تلاش اور مستقبل کے ممکنہ معاشی و تزویراتی مفادات بھی عالمی توجہ کا مرکز ہیں۔

چین انٹارکٹک معاہدے کا رکن بھی ہے، جس کے تحت انٹارکٹیکا کو بنیادی طور پر پرامن مقاصد اور سائنسی تحقیق کے لیے مخصوص کیا گیا ہے اور وہاں فوجی سرگرمیوں پر پابندی عائد ہے۔

مزید برآں چین 1991 کے ماحولیاتی تحفظ کے پروٹوکول کا بھی فریق ہے، جس کے تحت انٹارکٹیکا میں معدنی وسائل کی کان کنی پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ اس پروٹوکول کا بنیادی مقصد خطے کے منفرد قدرتی ماحول کو انسانی سرگرمیوں کے ممکنہ نقصانات سے محفوظ رکھنا ہے۔

نئے قانون کو انٹارکٹیکا میں چین کی سرگرمیوں کو مزید منظم کرنے اور ماحولیاتی ذمہ داریوں کو قانونی شکل دینے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

More News