ایل پی جی کی 90 فیصد مقامی پیداوار شفاف نیلامی کے ذریعے فروخت کرنے کا فیصلہ

ایل پی جی کی 90 فیصد مقامی پیداوار شفاف نیلامی کے ذریعے فروخت کرنے کا فیصلہ

ہر کمپنی کو یومیہ زیادہ سے زیادہ 20 میٹرک ٹن ایل پی جی حاصل کرنے کی اجازت ہوگی، تمام اہل کمپنیوں کو مساوی مواقع فراہم کیے جائیں گے، وفاقی وزیر پیٹرولیم

اسلام آباد: حکومت نے ملک میں ایل پی جی کی منصفانہ تقسیم، دستیابی یقینی بنانے اور قیمتوں کے حوالے سے عوامی تحفظات دور کرنے کے لیے اہم فیصلہ کرلیا ہے۔ حکومت نے ایل پی جی کی 90 فیصد مقامی پیداوار شفاف نیلامی کے ذریعے فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد مارکیٹ میں مسابقتی ماحول پیدا کرنا اور سپلائی چین کو بہتر بنانا ہے۔

اس سلسلے میں ایل پی جی کی شفاف نیلامی کے لیے قائم کمیٹی کا پہلا اجلاس سیکرٹری پیٹرولیم کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں مقامی پیداوار کی فروخت اور تقسیم کے طریقہ کار پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مقامی طور پر پیدا ہونے والی ایل پی جی کا 90 فیصد حصہ نیلامی کے ذریعے فروخت کیا جائے گا تاکہ تمام اہل کمپنیوں کو یکساں اور منصفانہ بنیادوں پر ایل پی جی حاصل کرنے کا موقع مل سکے۔

اجلاس میں نیلامی کے نظام کے تحت ہر کمپنی کے لیے یومیہ زیادہ سے زیادہ 20 میٹرک ٹن ایل پی جی حاصل کرنے کی حد مقرر کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد کسی ایک کمپنی یا مخصوص گروپ کی جانب سے زیادہ مقدار میں ایل پی جی حاصل کرنے کی حوصلہ شکنی کرنا اور مارکیٹ میں منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا ہے۔

حکومتی فیصلے کے مطابق مقامی ایل پی جی کی باقی 10 فیصد پیداوار سرکاری مارکیٹنگ کمپنیوں کے لیے مختص کی جائے گی۔ اس حصے کو خصوصی طور پر دور دراز اور پسماندہ علاقوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا، جہاں نجی شعبے کی جانب سے ایل پی جی کی فراہمی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ ایل پی جی کی دستیابی اور غیر منصفانہ قیمتوں سے متعلق عوامی تحفظات دور کرنا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ حکومت توانائی کے شعبے میں شفافیت لانے اور صارفین کو مناسب قیمتوں پر ایندھن کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ نیلامی کا نیا نظام ایل پی جی کی منصفانہ تقسیم، سپلائی چین کے استحکام اور توانائی کے تحفظ میں معاون ثابت ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے مارکیٹ میں مسابقت کو فروغ ملے گا اور تمام اہل کمپنیوں کو کاروباری سرگرمیوں میں حصہ لینے کے مساوی مواقع میسر آئیں گے۔

حکومتی فیصلے کو ایل پی جی کے شعبے میں شفافیت اور بہتر انتظامی نظام کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس نظام کے عملی نفاذ اور اس کے نتیجے میں صارفین کو ملنے والے ریلیف کی اہمیت بھی برقرار رہے گی۔

More News