پاکستان پوسٹ میں مبینہ غیر قانونی بھرتیاں، ایف آئی اے نے اسعد محمود کو تفتیش سے روپوش قرار دے دیا
جے یو آئی (ف) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر اسعد محمود کے خلاف پاکستان پوسٹ میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں اور دیگر مقدمات کی تحقیقات میں پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایف آئی اے نے قانونی طلبی کے باوجود پیش نہ ہونے پر اسعد محمود کو دانستہ ڈیفالٹر قرار دیتے ہوئے تفتیش سے روپوش قرار دے دیا ہے۔
دستیاب تفصیلات کے مطابق پاکستان پوسٹ میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کے معاملے پر ایف آئی اے کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں۔ اس سلسلے میں اسعد محمود کو اپنا مؤقف پیش کرنے اور تفتیش میں شامل ہونے کے لیے طلب کیا گیا تھا، تاہم مقررہ وقت پر پیش نہ ہونے کے باعث تحقیقاتی ادارے نے ان کے عدم تعاون کا معاملہ اٹھایا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق قانونی نوٹسز کے باوجود پیش نہ ہونا تفتیشی عمل میں رکاوٹ کا باعث بن رہا ہے۔ اسی بنیاد پر انہیں دانستہ طور پر طلبی سے گریز کرنے والا قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان پوسٹ میں بھرتیوں کے حوالے سے سامنے آنے والی دستاویزات کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے 3 ہزار 938 آسامیوں پر بھرتیوں کی اجازت دی تھی، جبکہ مبینہ طور پر 4 ہزار 252 افراد کو ملازمتیں دی گئیں۔ تحقیقات میں 2 ہزار 646 ختم شدہ آسامیوں پر تقرریوں کا معاملہ بھی شامل ہے
تحقیقاتی اداروں کی جانب سے بھرتیوں کے طریقہ کار، مستقل تقرریوں، جعلی دستاویزات، زائد العمر امیدواروں اور ڈومیسائل کوٹے کی مبینہ خلاف ورزیوں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایف آئی اے کے علاوہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے بھی اسی معاملے پر تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔
نیب راولپنڈی نے اسعد محمود کو 10 نومبر 2026 کو صبح 11 بجے تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کرانے کی ہدایت کی ہے۔
اس معاملے میں یہ واضح رہنا ضروری ہے کہ ایف آئی اے کی طلبی پر عدم حاضری اور نیب کی آئندہ طلبی الگ کارروائیاں ہیں۔ اسعد محمود کے خلاف الزامات تاحال تحقیقات کے مرحلے میں ہیں اور ان کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ فورم پر ہوگا۔








