شہباز شریف کی آصف زرداری سے ملاقات، مکہ مکرمہ کے سہ فریقی دفاعی معاہدے پر تبادلہ خیال

شہباز شریف کی آصف زرداری سے ملاقات، مکہ مکرمہ کے سہ فریقی دفاعی معاہدے پر تبادلہ خیال

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایوانِ صدر میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کی اور انہیں یومِ آزادی کی مبارکباد پیش کی۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ محسن رضا نقوی، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان اور سینیٹر شیری رحمان بھی موجود تھیں۔

ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے صدر مملکت کو مکہ مکرمہ میں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے تاریخی سہ فریقی امن اور دفاعی تعاون کے معاہدے سے آگاہ کیا۔ صدر آصف علی زرداری نے معاہدے پر مؤثر عملدرآمد کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے علاقائی امن، استحکام اور مسلم دنیا کی سلامتی کے لیے اس کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

صدر مملکت نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط اور مستحکم تزویراتی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل و چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل سید عاصم منیر کی کوششوں کو سراہا۔

اجلاس میں داخلی اور خارجی امور سمیت خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج سے وابستہ دہشتگرد عناصر کے خلاف کارروائیوں میں پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔

صدر اور وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان سے دہشتگردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ قومی سلامتی، امن و امان اور ریاستی اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مؤثر بنانے پر بھی زور دیا گیا۔

صدر آصف علی زرداری نے موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں عوام کو درپیش معاشی مشکلات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، جبکہ اشیائے ضروریہ کی بلا تعطل فراہمی اور انہیں مناسب نرخوں پر دستیاب بنانے کو یقینی بنایا جائے۔

صدر مملکت نے امید ظاہر کی کہ علاقائی اور عالمی امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی فعال سفارتی کوششیں ملک کے عالمی مقام کو مزید مستحکم کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کے مثبت اثرات ملکی معیشت، سرمایہ کاری اور عوام کی زندگیوں پر بھی مرتب ہونے چاہئیں۔

More News