پریشن غضب للحق جاری: 663 افغان طالبان ہلاک، 887 زخمی
اسلام آباد: پاک فوج کی جانب سے افغانستان میں جاری آپریشن غضب للحق میں اب تک 663 افغان طالبان ہلاک جبکہ 887 زخمی ہو چکے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء تارڑ نے آپریشن سے متعلق تازہ اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔
عطاء تارڑ کے مطابق کارروائیوں کے دوران افغان طالبان رجیم کے 663 کارندے مارے جا چکے ہیں جبکہ 887 زخمی ہوئے ہیں۔ آپریشن میں طالبان کی 249 چیک پوسٹیں تباہ کر دی گئیں جبکہ 44 پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ فضائی کارروائیوں میں طالبان کے 224 ٹینک، آرمرڈ وہیکل اور آرٹلری گنز تباہ کیے گئے جبکہ دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں پر مجموعی طور پر 70 فضائی حملے کیے گئے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق 12 اور 13 مارچ کی درمیانی شب پاک افواج نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گرد ٹھکانوں اور فوجی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں قندھار ایئر فیلڈ کی آئل اسٹوریج سائٹ اور اس سے منسلک لاجسٹک انفراسٹرکچر کو بھی تباہ کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اس آئل اسٹوریج سائٹ کا ایندھن طالبان رجیم اور دہشت گرد تنظیمیں اپنی کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہی تھیں۔ جاری کردہ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملوں میں صرف فوجی تنصیبات اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ویڈیوز سے اس پروپیگنڈے کی بھی تردید ہوتی ہے جس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ پاک افواج افغانستان میں سول آبادی کو نشانہ بنا رہی ہے۔
دریں اثنا آپریشن کے دوران ایک اور فضائی حملے کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے جس میں کابل میں 313 کور کے ایمونیشن ڈمپ کو مؤثر انداز میں تباہ کرتے ہوئے کسی بھی سول آبادی کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔








