اقبال ڈے پر 13 ہزار روپے دینے کا جھانسہ، سائبر کرائم ایجنسی کا بڑا الرٹ جاری

یومِ اقبال پر 13 ہزار روپے دینے کا جھانسہ، سائبر کرائم ایجنسی کا بڑا الرٹ جاری

وزیراعظم کی جانب سے نقد انعام دینے کے نام پر جعلی پیغامات اور مشکوک لنکس گردش کرنے لگے، شہری ذاتی معلومات اور او ٹی پی کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں، این سی سی آئی اے

اسلام آباد: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے یومِ اقبال کے موقع پر وزیراعظم کی جانب سے شہریوں کو 13 ہزار روپے نقد دینے کے نام پر سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے جعلی پیغامات اور مشکوک لنکس کے حوالے سے اہم انتباہ جاری کردیا ہے۔

این سی سی آئی اے کے مطابق سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر ایسے پیغامات اور لنکس شیئر کیے جارہے ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے یومِ اقبال کے موقع پر شہریوں کو 13 ہزار روپے کی مالی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ تاہم ادارے نے واضح کیا ہے کہ یہ پیغامات جعلی ہیں اور ان کے ذریعے شہریوں کو آن لائن فراڈ کا نشانہ بنانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔

سائبر کرائم ایجنسی کا کہنا ہے کہ جعلساز ایسے مشکوک لنکس کے ذریعے شہریوں کی ذاتی اور مالی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جنہیں بعدازاں مالی دھوکہ دہی اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ادارے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی غیر تصدیق شدہ لنک پر کلک نہ کریں، مشکوک پیغامات کو دوسرے افراد تک آگے نہ بھیجیں اور نامعلوم ذرائع کو اپنا شناختی کارڈ نمبر، بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات یا دیگر حساس معلومات فراہم کرنے سے گریز کریں۔

این سی سی آئی اے نے مزید واضح کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے کسی بھی مالی امداد، خصوصی سہولت یا نقد انعام کے اعلان پر یقین کرنے سے پہلے سرکاری ویب سائٹس اور مستند سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے اس کی تصدیق ضروری ہے۔ شہریوں کو انٹرنیٹ استعمال کرتے ہوئے احتیاط برتنے اور آن لائن فراڈ سے متعلق آگاہی حاصل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

دوسری جانب پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بھی ایک نئے آن لائن فراڈ کے حوالے سے شہریوں کو خبردار کیا ہے۔ پی ٹی اے کے مطابق جعلساز خود کو کوریئر کمپنیوں کا نمائندہ ظاہر کرکے شہریوں کو فون کرتے ہیں اور پارسل کی ڈیلیوری کا بہانہ بنا کر ان سے حساس معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ان کالز کے دوران شہریوں سے ڈیلیوری مکمل کرنے کے نام پر ون ٹائم پاس ورڈ (او ٹی پی) طلب کیا جاتا ہے۔ پی ٹی اے نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی صورت اپنا او ٹی پی کسی دوسرے شخص کے ساتھ شیئر نہ کریں۔

حکام نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ مالی امداد، نقد انعامات اور پارسل کی ڈیلیوری سے متعلق مشکوک پیغامات یا فون کالز پر فوری اعتماد کرنے کے بجائے مستند ذرائع سے تصدیق کریں تاکہ مالی نقصان اور ذاتی معلومات کے غلط استعمال سے محفوظ رہا جاسکے۔

More News