امریکا نے مذاکرات کے چاروں ادوار سبوتاژ کیے، باقری کنی کا الزام
ایران کے نائب قومی سلامتی کونسل باقری کنی نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران ایران کے ساتھ مذاکرات کے چاروں ادوار کو سبوتاژ کیا اور اپنے وعدوں سے انحراف کرکے سفارتی عمل کو نقصان پہنچایا۔
باقری کنی کے مطابق امریکا کی جانب سے مذاکرات کے دوران کیے گئے وعدوں کی پاسداری نہ کرنے اور طے شدہ معاملات سے پیچھے ہٹنے کے باعث دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کوششیں متاثر ہوئیں۔ انہوں نے امریکی طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے مذاکرات کے مختلف مراحل میں ایسے اقدامات کیے جن سے سفارتی عمل آگے بڑھنے کے بجائے تعطل کا شکار ہوا۔
ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران ہونے والے مذاکرات کے چاروں ادوار میں امریکا نے اپنے وعدوں سے انحراف کیا، جس کے نتیجے میں باہمی اعتماد کو نقصان پہنچا۔ ان کے بیان میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے فریقین کی جانب سے طے شدہ ذمہ داریوں کی ادائیگی اور سنجیدہ سفارتی رویہ اختیار کرنا ضروری ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں اور علاقائی صورتحال سمیت متعدد معاملات پر طویل عرصے سے اختلافات موجود ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور مذاکرات کی کوششیں مختلف ادوار میں جاری رہی ہیں، تاہم باہمی عدم اعتماد اور پالیسی اختلافات کے باعث پیش رفت کئی مرتبہ متاثر ہوئی۔
ایران کی جانب سے امریکا پر مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچانے کے الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی اور سفارتی چیلنجز بدستور موجود ہیں۔
دوسری جانب مذاکرات کے حوالے سے کسی بھی ممکنہ پیش رفت کے لیے فریقین کے درمیان اعتماد کی بحالی، وعدوں پر عمل درآمد اور اختلافی معاملات کے حل کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
باقری کنی کے بیان سے ایک بار پھر ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی تعلقات میں موجود بداعتمادی اور مذاکراتی عمل کو درپیش مشکلات اجاگر ہوئی ہیں۔







