امریکی دباؤ کے باوجود ایرانی عوام نے آزادی اور خودمختاری کا دفاع کیا، مجتبیٰ خامنہ ای

امریکی دباؤ کے باوجود ایرانی عوام نے آزادی اور خودمختاری کا دفاع کیا، مجتبیٰ خامنہ ای

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکا گزشتہ سات دہائیوں سے ایران کے خلاف تسلط اور دشمنی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، تاہم ایرانی عوام نے امریکی دباؤ کے باوجود اپنی آزادی اور خودمختاری کا کامیابی سے دفاع کیا ہے۔

اپنے بیان میں مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا کی ایران سے متعلق پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن طویل عرصے سے ایران پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکی دباؤ اور مختلف پابندیوں کے باوجود ایرانی قوم نے اپنے قومی مفادات اور خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام نے مختلف ادوار میں بیرونی دباؤ اور مشکلات کا سامنا کیا، لیکن قومی خودمختاری اور آزادی کے تحفظ کے لیے اپنے مؤقف پر قائم رہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران اپنی آزادی، خودمختاری اور قومی شناخت کے دفاع کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

مجتبیٰ خامنہ ای کے بیان میں امریکا اور ایران کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری کشیدگی اور اختلافات کی عکاسی بھی ہوتی ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد نمایاں تناؤ پیدا ہوا، جس کے بعد پابندیاں، سفارتی اختلافات اور خطے میں سیاسی و سکیورٹی معاملات دونوں ممالک کے تعلقات کا اہم حصہ بنے رہے ہیں۔

ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سمیت متعدد معاملات پر اختلافات موجود ہیں۔ تہران مسلسل امریکی پالیسیوں کو اپنی خودمختاری کے لیے دباؤ قرار دیتا رہا ہے، جبکہ واشنگٹن اپنے اقدامات کو مختلف علاقائی اور بین الاقوامی خدشات سے جوڑتا ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کے حالیہ بیان کو ایران کے خودمختاری سے متعلق مؤقف کے اعادے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

More News