انتخابی اصلاحات کمیٹی میں اتحادیوں کی نمائندگی کا معاملہ، ایم کیو ایم کا حکومتی فیصلے پر تحفظات کا اظہار

انتخابی اصلاحات کمیٹی میں اتحادیوں کی نمائندگی کا معاملہ، ایم کیو ایم کا حکومتی فیصلے پر تحفظات کا اظہار

اسلام آباد: انتخابی اصلاحات کے لیے قائم پارلیمانی کمیٹی میں اتحادی جماعتوں کو مناسب نمائندگی دینے کا معاملہ حکومت کے لیے چیلنج بن گیا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) نے کمیٹی میں صرف ایک رکن شامل کرنے کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے نظرثانی کا مطالبہ کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق انتخابی اصلاحات کے عمل میں اتحادی جماعتوں کی شمولیت اور ان کی پارلیمانی نمائندگی کے تناسب پر مشاورت جاری ہے۔ ایم کیو ایم کا مؤقف ہے کہ انتخابی نظام میں بہتری کے لیے قائم کمیٹی میں تمام اتحادی جماعتوں کو ان کی پارلیمانی حیثیت کے مطابق مناسب نمائندگی دی جانی چاہیے۔

ایم کیو ایم کی جانب سے حکومتی فیصلے پر تحفظات سامنے آنے کے بعد اتحادی جماعتوں کی نمائندگی کا معاملہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ جماعت نے مطالبہ کیا ہے کہ کمیٹی کی تشکیل پر دوبارہ غور کیا جائے تاکہ اتحادیوں کو بھی انتخابی اصلاحات کے عمل میں مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع مل سکے۔

انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی کا مقصد ملک میں انتخابی نظام کو بہتر بنانے، انتخابی قوانین کا جائزہ لینے اور مستقبل کے انتخابات کو شفاف، منصفانہ اور قابل اعتماد بنانے کے لیے تجاویز مرتب کرنا ہے۔

سیاسی حلقوں میں انتخابی اصلاحات کو اہم معاملہ قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس عمل میں پارلیمانی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اتحادی جماعتوں کے تحفظات دور نہ ہونے کی صورت میں کمیٹی کی تشکیل اور اس کے کام میں سیاسی مشاورت کی ضرورت مزید بڑھ سکتی ہے۔

حکومت کے لیے اب اہم مرحلہ یہ ہے کہ اتحادی جماعتوں کے مطالبات اور پارلیمانی نمائندگی کے تناسب کے درمیان اتفاق رائے پیدا کیا جائے، تاکہ انتخابی اصلاحات کا عمل تمام متعلقہ جماعتوں کی شمولیت کے ساتھ آگے بڑھ سکے۔

 

More News