ایران امریکہ کشیدگی، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت پانچ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمت پانچ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
عالمی توانائی مارکیٹ میں اس اضافے کی اہم وجہ خطے میں بڑھتی ہوئی سیاسی و عسکری کشیدگی اور تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ عالمی سطح پر تیل کی پیداوار اور ترسیل کے حوالے سے انتہائی اہم خطہ ہے، اس لیے یہاں پیدا ہونے والی کشیدگی عالمی منڈیوں پر براہِ راست اثر انداز ہوسکتی ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں تناؤ بڑھنے سے سرمایہ کاروں اور توانائی کے شعبے سے وابستہ کاروباری حلقوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ مارکیٹ میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو خام تیل کی پیداوار اور ترسیل متاثر ہوسکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا امکان ہے۔
خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے سے درآمدی بل بڑھنے اور ملکی معیشت پر دباؤ میں اضافے کا خدشہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ پیٹرولیم مصنوعات کی مقامی قیمتوں، ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
تاہم عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا ملکی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر فوری اور براہِ راست اثر لازمی نہیں ہوتا۔ مقامی قیمتوں کا تعین متعلقہ حکومتی پالیسی، درآمدی لاگت اور دیگر عوامل کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔








