بجلی اور گیس صارفین کو سبسڈی دینے کا نیا طریقہ کار تیار، جنوری اور فروری 2027 سے نفاذ کی تجویز

بجلی اور گیس صارفین کو سبسڈی دینے کا نیا طریقہ کار تیار، جنوری اور فروری 2027 سے نفاذ کی تجویز

وفاقی حکومت نے بجلی اور گیس صارفین کو سبسڈی فراہم کرنے کے لیے نیا طریقہ کار تیار کرلیا ہے، جبکہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بجلی صارفین کے لیے یکم جنوری اور گیس صارفین کے لیے فروری 2027 سے نیا نظام نافذ کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے بجلی اور گیس کے شعبوں میں سبسڈی کی فراہمی کے موجودہ نظام میں تبدیلی کی تیاری کی جارہی ہے۔ نئے طریقہ کار کا مقصد سبسڈی کے نظام کو تبدیل کرکے صارفین تک مالی ریلیف کی فراہمی کے طریقہ کار کو ازسرنو ترتیب دینا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ بجلی صارفین کے لیے نیا نظام یکم جنوری 2027 سے نافذ کیا جائے، جبکہ گیس صارفین کے لیے اس نظام کا اطلاق فروری 2027 سے کیا جائے۔ اس طرح دونوں شعبوں میں سبسڈی کی فراہمی کے لیے الگ الگ تاریخوں پر نئے طریقہ کار کو متعارف کرانے کی تجویز سامنے آئی ہے۔

بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے اور گھریلو اخراجات کے دباؤ کے باعث سبسڈی کا معاملہ صارفین کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ نئے نظام میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ حکومت مستحق صارفین کی نشاندہی کیسے کرتی ہے اور انہیں ریلیف فراہم کرنے کے لیے کن اصولوں کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔

موجودہ پیش رفت کے بعد صارفین میں یہ سوال بھی اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ نئے طریقہ کار کے تحت کن افراد یا گھرانوں کو سبسڈی دی جائے گی اور اس کے لیے آمدن یا استعمال کی کون سی حدود مقرر ہوں گی۔

تاہم فراہم کردہ معلومات میں نئے نظام کے تحت سبسڈی کی شرح، مستحق صارفین کے انتخاب کے معیار، بجلی و گیس کے سلیبز میں ممکنہ تبدیلیوں اور ریلیف کی تفصیلات واضح نہیں کی گئیں۔

نئے طریقہ کار کے نفاذ سے متعلق حتمی فیصلے اور حکومتی اعلان کے بعد ہی معلوم ہوسکے گا کہ بجلی اور گیس صارفین کو کس انداز میں سبسڈی فراہم کی جائے گی اور اس تبدیلی سے عام صارفین کے بلوں پر کیا اثر پڑے گا۔

 

More News