برطانیہ میں امریکی ایئربیس واقعے میں ملوث دو افراد پر فرد جرم عائد
برطانیہ میں امریکی فضائی اڈے سے متعلق واقعے میں ملوث دو افراد پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد واقعے کی قانونی کارروائی اور اس کے ممکنہ سکیورٹی پہلوؤں پر توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔
امریکی فضائی اڈے فوجی سرگرمیوں اور دفاعی تعاون کے حوالے سے اہمیت رکھتے ہیں، اس لیے ایسے مقامات پر پیش آنے والے واقعات کو سکیورٹی کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ تاہم، ملزمان پر فردِ جرم عائد ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ عدالت نے انہیں مجرم قرار دے دیا ہے۔ ان کے خلاف الزامات کا فیصلہ شواہد اور قانونی کارروائی کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
پولیس کے مطابق یہ مقدمہ برطانیہ کے علاقے گلوسٹرشائر میں واقع آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس کے قریب 27 ستمبر کو پیش آنے والے واقعے سے متعلق ہے۔ یہ فضائی اڈہ امریکی فوج بھی استعمال کرتی ہے اور اس سے امریکی بمبار طیارے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔
ملزمان میں 24 سالہ برطانوی شہری محمد احمد عبدالکریم اور 24 سالہ برطانوی شہری نعمان اسغیر شامل ہیں۔ عبدالکریم پر الزام ہے کہ انہوں نے 31 اگست سے 28 ستمبر کے دوران کسی غیر ملکی انٹیلی جنس سروس کی مدد کے لیے سرگرمیاں انجام دیں۔ برطانوی حکام کی تفتیش کا تعلق ایران سے بتایا گیا ہے۔ دوسرے ملزم پر 22 اگست کو ایسے ممنوعہ مقام میں داخل ہونے کا الزام ہے جہاں ان کی موجودگی برطانیہ کے مفادات کے خلاف سمجھی گئی۔
دونوں ملزمان کو ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کورٹ میں پیش ہونا تھا، جہاں ان کے خلاف قانونی کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔ حکام کی جانب سے عائد کردہ الزامات ابھی عدالتی فیصلے کے متبادل نہیں ہیں اور دونوں ملزمان کو قانون کے مطابق اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔
واقعے کے بعد پولیس نے علاقے میں بڑے پیمانے پر کارروائی کی تھی۔ ابتدائی طور پر پانچ افراد کو مشکوک گاڑیوں کے حوالے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان گاڑیوں میں پٹرول جیسا آتش گیر مادہ ملا، تاہم حکام کو کوئی قابلِ استعمال دھماکا خیز مواد نہیں ملا۔ سکیورٹی خدشات کے باعث علاقے کے تقریباً 85 گھروں کو خالی بھی کرایا گیا تھا۔
تحقیقات کے دوران حکام نے ممکنہ غیر ملکی مداخلت کے پہلو کا جائزہ لیا۔ اس واقعے کے بعد امریکی فوج نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنے بمبار طیارے بھی اس فضائی اڈے سے واپس منتقل کر دیے تھے۔
برطانوی حکام نے تحقیقات میں ایران سے ممکنہ تعلق کا شبہ ظاہر کیا ہے، تاہم ایران اس معاملے میں ملوث ہونے کی تردید کر چکا ہے۔ حکام کے مطابق تحقیقات کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا یہ سرگرمیاں کسی غیر ملکی انٹیلی جنس ادارے کی ہدایت پر کی گئیں اور اس معاملے میں مزید کون سے افراد ملوث ہو سکتے ہیں۔








