بشریٰ بی بی کا سزا معطلی کی اپیل کی جلد سماعت کیلئے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع
اسلام آباد: بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں اپنی سزا معطلی کی اپیل کی جلد سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔
بشریٰ بی بی کی جانب سے وفاقی آئینی عدالت میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا کے خلاف دائر اپیل تاحال سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوئی، اس لیے انصاف کے مفاد میں اپیل کی جلد سماعت کی جائے۔
درخواست کے مطابق بشریٰ بی بی کو آنکھوں کی بیماری دوبارہ لاحق ہوگئی ہے اور جیل میں علاج کی سہولیات بھی ناکافی ہیں۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ طبی مسائل کے باعث مزید تاخیر سے ان کی باقی ماندہ بینائی اور مجموعی صحت کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی 54 سالہ سابق خاتون اول ہیں اور اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ کیس میں 7 سال قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔ انہیں 17 جنوری 2025 کو اس مقدمے میں 7 سال قید با مشقت کی سزا سنائی گئی تھی۔
درخواست کے مطابق بشریٰ بی بی کو قومی احتساب بیورو (نیب) آرڈیننس کے تحت معاونت، مدد اور اکسانے کے الزامات میں سزا سنائی گئی۔ بشریٰ بی بی کی جانب سے سزا کے خلاف اپیل دائر کی گئی، تاہم یہ اپیل ابھی سماعت کے لیے مقرر ہونے کی منتظر ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ معاملے کی حساس نوعیت اور بشریٰ بی بی کی مبینہ طبی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے سزا معطلی کی اپیل کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔
بشریٰ بی بی کی جانب سے دائر درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ان کی آنکھوں سے متعلق طبی مسئلہ دوبارہ پیدا ہوا ہے اور جیل میں دستیاب طبی سہولیات ان کی ضروریات کے مطابق نہیں ہیں۔ درخواست گزار کے مطابق اگر علاج اور عدالتی کارروائی میں مزید تاخیر ہوئی تو اس کے صحت پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
درخواست میں وفاقی آئینی عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی اپیل کو 21 ستمبر 2026 سے شروع ہونے والے ہفتے کے دوران سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔
اب عدالت کی جانب سے درخواست پر کارروائی اور سماعت مقرر کرنے سے متعلق فیصلہ سامنے آنا باقی ہے۔








