ب فارم نہیں تو پریشان نہ ہوں، نادرا نے شناختی کارڈ بنوانے کا آسان راستہ بتا دیا

ب فارم نہیں تو پریشان نہ ہوں، نادرا نے پہلی بار شناختی کارڈ بنوانے کا آسان طریقہ بتا دیا

اسلام آباد: نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے ایسے شہریوں کے لیے اہم وضاحت جاری کی ہے جنہوں نے اپنا ب فارم نہیں بنوایا۔ نادرا کے مطابق ایسے افراد جن کے پاس پیدائشی سرٹیفکیٹ موجود ہے، وہ 18 سال کی عمر مکمل ہونے کے بعد براہِ راست کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ کے حصول کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

نادرا کے ترجمان سید شباہت علی نے ادارے کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے پہلی مرتبہ شناختی کارڈ بنوانے کے طریقہ کار سے متعلق تفصیلات فراہم کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جن افراد کا ب فارم نہیں بنا، لیکن ان کے پاس پیدائش کا سرٹیفکیٹ موجود ہے، انہیں شناختی کارڈ بنوانے کے لیے پہلے ب فارم بنوانا ضروری نہیں ہوگا۔

ترجمان کے مطابق ایسے افراد 18 سال کی عمر مکمل ہونے پر براہِ راست قومی شناختی کارڈ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ اس وضاحت کا مقصد ان شہریوں کی رہنمائی کرنا ہے جو ب فارم نہ ہونے کی وجہ سے شناختی دستاویزات کے حصول کے طریقہ کار کے بارے میں پریشان رہتے ہیں۔

نادرا کی جانب سے شناختی کارڈ کے حصول سے متعلق یہ وضاحت ایسے افراد کے لیے اہم ہے جو پہلی مرتبہ اپنی قومی شناختی دستاویز بنوانا چاہتے ہیں۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ درخواست دینے سے قبل مطلوبہ دستاویزات اور طریقہ کار سے متعلق نادرا سے رہنمائی حاصل کریں تاکہ درخواست کے عمل میں مشکلات سے بچا جا سکے۔

دوسری جانب نادرا نے مسافروں کو انفلوئنزا اور میننجائٹس ویکسینز کی رجسٹریشن اور فیس وصولی کی سہولت عارضی طور پر معطل ہونے سے بھی آگاہ کیا ہے۔

ادارے کے مطابق بارڈر ہیلتھ مینجمنٹ کی ہدایات کی روشنی میں پاک آئی ڈی اور ای سہولت کے ذریعے فراہم کی جانے والی ویکسین رجسٹریشن اور فیس ادائیگی کی سروس فی الحال دستیاب نہیں ہوگی۔

نادرا نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ ویکسین سے متعلق مزید معلومات، رجسٹریشن اور ضروری رہنمائی کے لیے براہِ راست بارڈر ہیلتھ مینجمنٹ سے رابطہ کریں۔

نادرا کی ان وضاحتوں کا مقصد شہریوں کو شناختی دستاویزات کے حصول اور مسافروں کو ویکسین رجسٹریشن کی سہولت کی موجودہ صورتحال سے آگاہ رکھنا ہے۔

More News