توشہ خانہ کی نیلامی سے حاصل رقم پسماندہ علاقوں کی بچیوں کی تعلیم پر خرچ ہوگی
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے توشہ خانہ سے متعلق نئے ضابطہ جاتی قواعد 2026 نافذ کر دیے ہیں، جن کے تحت سرکاری عہدیداروں کے لیے 300 ڈالر تک مالیت کے تحائف مقررہ قیمت ادا کرکے ذاتی ملکیت میں رکھنے کی سابقہ سہولت ختم کر دی گئی ہے۔ نئے قواعد کے تحت توشہ خانہ میں جمع ہونے والے تحائف کی کھلی نیلامی کا طریقہ کار بھی وضع کیا گیا ہے۔
نئے قواعد کے مطابق ایسے تحائف جو سفارتی یا ثقافتی وجوہات کی بنا پر وصول کرنا ضروری ہوں، انہیں توشہ خانہ میں جمع کرانا لازمی ہوگا۔ ان تحائف کی فروخت شفاف نیلامی کے ذریعے کی جائے گی، جبکہ حاصل ہونے والی رقم کو پسماندہ علاقوں کی بچیوں کی تعلیم پر خرچ کرنے کی تجویز اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
قواعد کے تحت کابینہ سیکریٹری کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے، جسے نوادرات، تاریخی اشیاء اور قیمتی یا سفارتی لحاظ سے حساس تحائف کو عمومی نیلامی سے مستثنیٰ قرار دینے کا اختیار حاصل ہوگا۔ کمیٹی میں وزارتِ خزانہ، وزارتِ خارجہ، وزارتِ قانون اور ثقافت کے اعلیٰ نمائندے شامل ہوں گے۔
نئے ضوابط میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی تحفے کو نیلامی سے مستثنیٰ قرار دینے کا مطلب اسے وصول کرنے والے عہدیدار کی ذاتی ملکیت میں دینا نہیں ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد حساس اور تاریخی اشیاء کی مناسب درجہ بندی، حفاظت اور دیکھ بھال کو یقینی بنانا ہے۔
حکومت کے اس اقدام کو توشہ خانہ کے نظام میں شفافیت بڑھانے اور سرکاری تحائف سے حاصل ہونے والے وسائل کو عوامی فلاح، بالخصوص پسماندہ علاقوں کی بچیوں کی تعلیم، کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔








