جنوبی وزیرستان لوئر میں زیتون کا تیل نکالنے والی مشین خراب، زمینداروں کو بھاری نقصان

جنوبی وزیرستان لوئر میں زیتون کا تیل نکالنے والی مشین خراب، زمینداروں کو بھاری نقصان

وانا: جنوبی وزیرستان لوئر میں زیتون کی پیداوار میں اضافے کے باوجود تیل نکالنے والی مشین کی مبینہ خرابی اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث مقامی زمینداروں کو بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے۔ زمینداروں نے محکمہ زراعت کی کارکردگی، تربیت یافتہ عملے کی عدم موجودگی اور شکایات پر کارروائی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

مقامی زمینداروں کے مطابق انہوں نے زیتون سے تیل نکالنے کے لیے 13 بوریاں مشین پر فراہم کیں، جن میں سے ہر بوری کا وزن تقریباً 40 کلوگرام تھا۔ اس طرح مجموعی طور پر 520 کلوگرام زیتون سے صرف 22 لیٹر تیل حاصل ہوا۔ زمینداروں کا دعویٰ ہے کہ مشین کی ناقص کارکردگی کے باعث انہیں تقریباً 75 سے 80 لیٹر تیل کے برابر نقصان برداشت کرنا پڑا۔

زمینداروں کا کہنا ہے کہ وانا میں زیتون کا معیار اچھا ہے اور گزشتہ برسوں میں ان کے مطابق 100 کلوگرام زیتون سے تقریباً 22 لیٹر تیل حاصل ہوتا رہا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ موجودہ صورتحال مشین کی خرابی اور اس کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کا نتیجہ ہے، جس کے باعث سال بھر کی محنت اور سرمایہ خطرے میں پڑ گیا ہے۔

مقامی کاشت کاروں نے یہ شکایت بھی کی ہے کہ مشین چلانے کے لیے کوئی مستقل ذمہ دار افسر یا باقاعدہ تربیت یافتہ ماہر موجود نہیں۔ ان کے بقول مشین چلانے کی ذمہ داری ایک کم عمر بچے کو دی گئی ہے، جسے اس کام کی مناسب تربیت حاصل نہیں۔ زمینداروں کے مطابق حساس اور مہنگی مشینری کو تجربہ کار عملے کے ذریعے چلانا ضروری ہے تاکہ پیداوار کے ضیاع سے بچا جا سکے۔

زمینداروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعدد مرتبہ متعلقہ حکام کو مشین کی خرابی اور اس سے ہونے والے نقصان سے آگاہ کیا، تاہم ان کے بقول تاحال مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ مشین کے ذریعے تیل نکالنے میں مشکلات کے باعث بعض زمیندار زیتون دیگر اضلاع میں لے جانے پر مجبور ہیں، جس سے ان کے سفری اخراجات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان لوئر مسرت زمان، ڈائریکٹر زراعت، ڈائریکٹر جنرل زراعت اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مشین کی فوری تکنیکی جانچ اور مرمت کی جائے، تربیت یافتہ عملہ تعینات کیا جائے اور مرکز میں ذمہ دار افسر کی موجودگی یقینی بنائی جائے۔

زمینداروں کے مطابق بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو زیتون کی بڑھتی ہوئی پیداوار سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ زیتون کی فصل کو ضائع ہونے سے بچانے اور مقامی کاشت کاروں کی محنت کا تحفظ کرنے کے لیے مؤثر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے۔

More News