خیبرپختونخوا میں اربوں روپے کی گیس چوری، ماہانہ نقصان 35 کروڑ 78 لاکھ روپے
پشاور: خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع میں مالی سال 2025-26 کے دوران 4 ارب 29 کروڑ 40 لاکھ روپے مالیت کی گیس کے نقصانات ریکارڈ کیے گئے، جبکہ گیس نقصانات کی شرح گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 3.5 فیصد بڑھ گئی۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق جنوبی اضلاع میں اوسطاً ہر ماہ 35 کروڑ 78 لاکھ اور روزانہ تقریباً 1 کروڑ 18 لاکھ روپے مالیت کی گیس ضائع یا چوری ہورہی ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2025-26 میں گیس کے نقصانات کی مجموعی مقدار 2,862.75 ایم ایم سی ایف ریکارڈ ہوئی، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ مقدار 3,380 ایم ایم سی ایف تھی۔ مقدار میں کمی کے باوجود گیس کے مجموعی نقصان کی شرح 37.07 فیصد سے بڑھ کر 38.37 فیصد ہوگئی۔
رپورٹ کے مطابق کرک، ہنگو اور شکردرہ سمیت تیل و گیس پیدا کرنے والے علاقوں میں نقصان کی شرح انتہائی بلند رہی۔ ان علاقوں میں مالی سال 2025-26 کے دوران 1,252 ایم ایم سی ایف گیس کا نقصان ہوا، جس کی مالیت تقریباً 1 ارب 87 کروڑ 78 لاکھ روپے بتائی گئی۔ کوہاٹ میں گیس نقصانات کی شرح 27.75 فیصد رہی جبکہ وہاں تقریباً 97 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی گیس کے نقصانات ریکارڈ ہوئے۔
دستیاب اعدادوشمار کے مطابق بنوں میں گیس نقصانات کی شرح 45.98 فیصد تک پہنچ گئی، جہاں 40 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی گیس کے نقصانات ہوئے۔ ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں مجموعی شرح 14.56 فیصد جبکہ لکی مروت میں 26.99 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
جنوبی اضلاع کے ایس این جی پی ایل حکام کا دعویٰ ہے کہ صوبائی حکومت کے عدم تعاون اور بعض سیاسی رہنماؤں کی مبینہ سرپرستی کے باعث گیس چوری پر قابو نہیں پایا جاسکا۔ حکام کے مطابق گزشتہ 14 ماہ کے دوران پولیس کو 496 شکایات بھیجی گئیں، تاہم 166 ایف آئی آرز درج ہوسکیں، جبکہ کسی گیس چور کو تاحال سزا نہ ملنے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت کے ایک سینئر عہدیدار نے گیس چوری میں کمی کا مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ گزشتہ 14 سے 15 سال سے چلا آرہا ہے اور حکومت مقامی آبادی سے سیاسی رابطے اور مذاکرات کے ذریعے اسے حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔








