خیبرپختونخوا پولیس میں سیاسی مداخلت قانون کی حکمرانی یا سیاسی دباؤ؟
پشاور:سید عدنان
خیبرپختونخوا میں ایک بار پھر یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ کیا پولیس واقعی آزاد ہے یا سیاسی دباؤ کے تحت فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ لوئر دیر کے ڈی پی او تیمور خان کو عہدے سے ہٹانے کا معاملہ اسی بحث کو مزید تقویت دے رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق آٹھ فروری کے لاک ڈاؤن کے دوران ایک عام شہری کی درخواست پر ڈی پی او تیمور خان نے تحریک انصاف کے بعض کارکنوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔ اس اقدام کے بعد مقامی ایم پی اے نے اس پر سخت ناراضی کا اظہار کیا اور دونوں کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔ معاملہ وہیں نہیں رکا بلکہ ایم پی اے نے اس کی شکایت براہِ راست وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا تک پہنچا دی۔
ذرائع کے مطابق چند روز بعد ڈی پی او نے انہی کارکنوں کے خلاف چھاپے مار کر گرفتاریاں بھی کیں، جس کے بعد لوئر اور اپر دیر کے بعض ایم پی ایز نے متحد ہو کر وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ ڈی پی او کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔ معاملہ سی ایم ہاؤس تک پہنچا اور بتایا جاتا ہے کہ ایک گریڈ 19 افسر کے ذریعے پولیس حکام تک پیغام پہنچایا گیا۔
ابتدائی طور پر بعض اعلیٰ پولیس افسران نے اس معاملے پر مزاحمت بھی کی اور ڈی پی او کے حق میں مؤقف اختیار کیا، مگر سیاسی دباؤ بڑھنے کے بعد بالآخر 7 مارچ کو ڈی پی او تیمور خان کو عہدے سے ہٹا کر سی پی او رپورٹ کرنے کا حکم دے دیا گیا۔
یہ سوال اب شدت سے اٹھ رہا ہے کہ اگر پولیس افسران کو قانون کے مطابق کارروائی کرنے پر سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا اور انہیں ہٹا دیا جائے گا تو پھر قانون کی بالادستی کیسے قائم ہوگی؟
خیبرپختونخوا میں پولیس اصلاحات کی باتیں تو بہت کی جاتی ہیں، مگر جب کسی افسر کے خلاف سیاسی دباؤ کامیاب ہو جائے تو یہ پورے نظام پر سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ اگر پولیس کو واقعی غیر سیاسی اور خودمختار بنانا ہے تو ضروری ہے کہ افسران کی تعیناتی اور تبادلے صرف میرٹ اور قانون کے مطابق ہوں، نہ کہ سیاسی خواہشات کے مطابق۔
ورنہ یہ تاثر مضبوط ہوتا جائے گا کہ
قانون سے زیادہ طاقتور سیاست ہے، اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سیاسی دباؤ کے سامنے بے بس ہیں۔









