خیبرپختونخوا کے عوام دہشتگردی کے خلاف ہیں، امیر مقام
وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان اور سیفران انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام دہشتگردی کے خلاف ہیں اور صوبے کے شہری امن و استحکام کے خواہاں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے باعث صوبے کے عوام نے طویل عرصے تک مشکلات اور قربانیوں کا سامنا کیا ہے۔
امیر مقام کے مطابق خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے۔ صوبے کے مختلف علاقوں میں بدامنی کے واقعات سے عام شہری، سکیورٹی اہلکار اور قانون نافذ کرنے والے ادارے متاثر ہوئے ہیں۔ دہشتگردی کے نتیجے میں جانی و مالی نقصانات کے ساتھ کاروباری سرگرمیوں اور معمولات زندگی پر بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام امن چاہتے ہیں اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا کے شہریوں کی خواہش ہے کہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہو تاکہ لوگ بلاخوف اپنی روزمرہ زندگی گزار سکیں اور ترقیاتی سرگرمیاں جاری رہیں۔
خیبرپختونخوا گزشتہ کئی برسوں سے دہشتگردی کے مختلف واقعات کا سامنا کر رہا ہے۔ بالخصوص ضم شدہ اضلاع اور سرحدی علاقوں میں سکیورٹی چیلنجز کے باعث شہریوں کو متعدد مسائل درپیش ہیں۔ ان حالات میں امن کا قیام، شہریوں کا تحفظ اور متاثرہ علاقوں کی بحالی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔
دہشتگردی کے خلاف اقدامات میں سکیورٹی اداروں کے ساتھ ساتھ عوام کا تعاون بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔ مقامی آبادی کی حمایت، قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ اور مشکوک سرگرمیوں کی بروقت اطلاع امن و امان برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
امیر مقام کے بیان میں خیبرپختونخوا کے عوام کے امن پسند مؤقف کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبے کے شہری دہشتگردی کا خاتمہ اور پائیدار امن چاہتے ہیں تاکہ علاقے میں معمولات زندگی بحال ہوں، کاروبار کو فروغ ملے اور نوجوانوں کو ترقی کے بہتر مواقع میسر آ سکیں۔








