سانحہ دیر کالونی کے بعد خیبر پختونخوا کے اسکولوں کی عمارتوں کا ہنگامی معائنہ شروع

سانحہ دیر کالونی کے بعد خیبر پختونخوا کے اسکولوں کی عمارتوں کا ہنگامی معائنہ شروع

پشاور: سانحہ دیر کالونی کے بعد خیبر پختونخوا کے تعلیمی اداروں میں بچوں کی حفاظت اور اسکولوں کی عمارتوں کی خستہ حالی کے حوالے سے اہم سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ محکمہ تعلیم نے صوبے بھر میں سرکاری اور نجی اسکولوں کی عمارتوں کا ہنگامی معائنہ شروع کر دیا ہے۔

پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی عمارت زمین بوس ہونے کے افسوسناک واقعے میں 32 بچوں اور 2 خواتین  اساتذہ کی ہلاکت جبکہ 40 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ اس واقعے کے بعد تعلیمی اداروں میں حفاظتی انتظامات اور عمارتوں کے معیار کا جائزہ لینے کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔

محکمہ تعلیم کی ابتدائی رپورٹس کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع میں متعدد سرکاری اور نجی اسکولوں کی عمارتیں خستہ حال اور خطرناک پائی گئی ہیں۔ حکام نے سوشل میڈیا پر شہریوں کی جانب سے شیئر کی جانے والی ویڈیوز اور نشاندہی کو بھی معائنے کے عمل میں شامل کیا ہے۔

ابتدائی رپورٹ کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان کے 2 سرکاری اسکولوں کے تمام 25 کلاس رومز خستہ حال اور خطرناک قرار دیے گئے ہیں۔ اسی طرح چارسدہ کے 3 سرکاری اسکولوں میں 20 میں سے 15 کلاس رومز ناقابلِ استعمال پائے گئے ہیں۔

ان انکشافات کے بعد اسکولوں کی عمارتوں کی مرمت، خطرناک حصوں کی نشاندہی اور طلبہ کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کی ضرورت مزید اہم ہو گئی ہے۔ تاہم، صوبے بھر کے معائنے کی حتمی رپورٹ اور مزید اضلاع کے اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد صورتحال کی مکمل تفصیلات واضح ہوں گی۔

تعلیمی اداروں میں بچوں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ خطرناک عمارتوں کے خلاف بروقت اقدامات کیے جائیں اور حفاظتی معیار پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

More News