سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ بننے کے خلاف درخواست، وفاقی آئینی عدالت کا نوٹس جاری

سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ بننے کے خلاف درخواست، وفاقی آئینی عدالت کا نوٹس جاری

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے انتخاب کے خلاف شیر افضل مروت کی درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے وزیراعلیٰ، صوبائی حکومت اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کردیے۔

چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کو بھی عدالتی معاونت کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔

سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ درخواست میں کون سا آئینی نکتہ اٹھایا گیا ہے۔ شیر افضل مروت نے مؤقف اختیار کیا کہ سہیل آفریدی کو غیر آئینی طریقے سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا منتخب کیا گیا۔

درخواست گزار کے مطابق سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو عہدے سے ہٹانے کا طریقہ آئین کے آرٹیکل 130(8) سے مطابقت نہیں رکھتا۔ شیر افضل مروت نے عدالت کو بتایا کہ علی امین گنڈاپور نے اپنی مرضی سے استعفیٰ نہیں دیا تھا بلکہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر استعفیٰ دیا۔

انہوں نے مزید مؤقف اپنایا کہ گورنر نے علی امین گنڈاپور کا ابتدائی استعفیٰ بھی منظور نہیں کیا تھا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس صورتحال کے بعد سہیل آفریدی کا وزیراعلیٰ منتخب ہونا آئینی تقاضوں کے مطابق نہیں تھا۔

وفاقی آئینی عدالت نے فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے درخواست پر مزید کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

More News