غریب ممالک کو ملنے والے فنڈز میں 23 فیصد کمی ہوگئی، ڈاکٹر مصدق ملک
وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ رواں سال غریب ممالک کو فراہم کیے جانے والے فنڈز میں 23 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے باعث ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے درکار مالی وسائل کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔
ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر دنیا کو ایک گلوبل ویلج قرار دینے کا تصور اب تبدیل ہو رہا ہے۔ ماضی میں دنیا کو ایک ایسی مشترکہ برادری کے طور پر دیکھا جاتا تھا جہاں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے مشترکہ مسائل کا حل تلاش کرتے تھے، تاہم موجودہ عالمی صورتحال میں یہ تصور مختلف شکل اختیار کر رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے غریب ممالک کے لیے مالی معاونت میں کمی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر ممالک پہلے ہی معاشی مشکلات اور موسمیاتی تبدیلی کے سنگین اثرات سے دوچار ہیں۔ ایسے حالات میں مالی وسائل کی کمی ان ممالک کے لیے مزید چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے اثرات دنیا بھر میں مختلف صورتوں میں سامنے آ رہے ہیں، جن میں غیر معمولی بارشیں، سیلاب، خشک سالی، شدید گرمی اور دیگر قدرتی آفات شامل ہیں۔ ترقی پذیر ممالک، خصوصاً کم وسائل رکھنے والی ریاستیں، ان آفات سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں اور انہیں نقصانات کے ازالے، بحالی اور مستقبل کے خطرات سے بچاؤ کے لیے عالمی تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔
پاکستان بھی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ ملک کو ماضی میں تباہ کن سیلابوں، غیر معمولی بارشوں اور شدید موسمی حالات کے باعث بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایسے میں موسمیاتی فنڈنگ پاکستان سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔
ڈاکٹر مصدق ملک کے بیان نے عالمی سطح پر موسمیاتی مالی معاونت اور ترقی پذیر ممالک کی ضروریات کے حوالے سے اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ غریب ممالک کو درپیش موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے مالی وسائل کی فراہمی اور عالمی تعاون کو مؤثر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق فنڈز میں کمی اور گلوبل ویلج کے تصور میں تبدیلی موجودہ عالمی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔








