متاثرہ اسکرین پروٹیکٹر والا فون استعمال کرنا کتنا محفوظ ہے؟
اگر فون کا اسکرین پروٹیکٹر بری طرح کریک یا ٹوٹ چکا ہو تو اسے استعمال کرنا نقصان دہ ہوسکتا ہے، ماہرین کے مطابق ایسے پروٹیکٹر کو تبدیل کر دینا بہتر ہے۔
اسمارٹ فونز کو خراشوں اور معمولی ضربوں سے محفوظ رکھنے کے لیے بیشتر افراد اسکرین پروٹیکٹر استعمال کرتے ہیں۔ مارکیٹ میں پلاسٹک فلم اور گلاس سمیت مختلف اقسام کے اسکرین پروٹیکٹر دستیاب ہیں، جو فون کی اصل اسکرین کو نقصان سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔
تاہم فون کے گرنے یا کسی نوکیلی چیز سے ٹکرانے کے نتیجے میں اسکرین پروٹیکٹر کریک یا ٹوٹ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا متاثرہ پروٹیکٹر کے ساتھ فون استعمال کرنا محفوظ ہے؟
ماہرین کے مطابق اگر اسکرین پروٹیکٹر معمولی سا متاثر ہوا ہو تو فوری طور پر خطرہ زیادہ نہیں ہوتا، لیکن اگر اس میں گہری دراڑیں پڑ چکی ہوں یا شیشہ ٹوٹ کر کناروں سے باہر نکل رہا ہو تو اسے تبدیل کرنا ضروری ہے۔
ٹوٹے ہوئے گلاس پروٹیکٹر کے تیز کنارے انگلیوں کو زخمی کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پروٹیکٹر کے زیادہ متاثر ہونے سے فون کی اصل اسکرین کا کچھ حصہ بھی غیر محفوظ ہوجاتا ہے، جس سے خراش یا مزید نقصان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
کریک شدہ پروٹیکٹر ٹچ اسکرین کی کارکردگی کو بھی متاثر کرسکتا ہے اور بعض اوقات اسکرین کے مخصوص حصوں پر ٹچ درست طریقے سے کام نہیں کرتا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خراب پروٹیکٹر کو زیادہ عرصے تک فون پر لگا رہنے دینا مناسب نہیں، کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ اسے اتارنا مشکل ہوسکتا ہے اور بعض صورتوں میں اسکرین پر خراشیں بھی پڑ سکتی ہیں، خاص طور پر کناروں پر۔
پروٹیکٹر تبدیل کرتے وقت اسے احتیاط سے اتارنا چاہیے۔ پہلے فون بند کریں اور کیس ہٹا دیں، پھر کسی پتلے پلاسٹک کارڈ کی مدد سے پروٹیکٹر کے ایک کونے کو آہستگی سے اٹھائیں۔ اسے زبردستی کھینچنے کے بجائے بتدریج اتاریں تاکہ فون کی اصل اسکرین کو نقصان نہ پہنچے۔
پروٹیکٹر اتارنے کے بعد اسکرین کو نرم مائیکرو فائبر کپڑے سے صاف کریں اور نیا پروٹیکٹر لگائیں۔ اگر اصل اسکرین بھی ٹوٹی ہوئی ہو یا اس سے شیشہ نکل رہا ہو تو فون استعمال کرنے کے بجائے اسے ماہر ٹیکنیشن سے چیک کروانا زیادہ محفوظ ہے۔






