ملکی ترقی کا راز مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹلائزیشن میں ہے، وزیراعظم شہباز شریف

ملکی ترقی کا راز مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹلائزیشن میں ہے، وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملکی ترقی کا راز مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹلائزیشن میں مضمر ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال پاکستان میں تجارت، برآمدات، زرعی پیداوار، کاروباری سہولتوں اور سرکاری خدمات کے معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

وزیراعظم کے مطابق، موجودہ دور میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت دنیا بھر میں معاشی ترقی اور جدید طرز حکمرانی کے لیے اہم ذرائع بن چکی ہیں۔ پاکستان کو بھی ان شعبوں میں پیش رفت کرتے ہوئے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نظام اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ ملکی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکے اور عوام کو بہتر سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔

مصنوعی ذہانت کے استعمال سے کاروباری اداروں کو پیداواری صلاحیت بڑھانے، اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے اور فیصلوں کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اسی طرح ڈیجیٹل نظام کے ذریعے کاروباری معاملات کو تیز، آسان اور زیادہ شفاف بنایا جا سکتا ہے، جس سے سرمایہ کاری اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے امکانات بڑھتے ہیں۔

وزیراعظم نے جن شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کی اہمیت پر زور دیا ہے، ان میں زراعت بھی نمایاں ہے۔ ڈیجیٹل ٹولز اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے فصلوں کی نگرانی، پانی کے بہتر استعمال، موسمی حالات کی پیش گوئی اور زرعی وسائل کی مؤثر منصوبہ بندی میں مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔ ان اقدامات سے زرعی پیداوار بہتر بنانے اور کاشتکاروں کے اخراجات کم کرنے کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

برآمدات کے شعبے میں بھی ڈیجیٹلائزیشن اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کاروباری ادارے عالمی منڈیوں تک رسائی بہتر بنا سکتے ہیں، تجارتی عمل کو آسان کر سکتے ہیں اور بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق اپنی مصنوعات کی تیاری اور تشہیر میں بہتری لا سکتے ہیں۔

سرکاری خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن سے شہریوں کو مختلف سہولتیں آن لائن فراہم کرنے، دفتری کارروائیوں میں تاخیر کم کرنے اور انتظامی امور میں شفافیت بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، ان اہداف کے حصول کے لیے مضبوط ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، تربیت یافتہ افرادی قوت، سائبر سکیورٹی اور قابلِ اعتماد انٹرنیٹ تک رسائی بھی ضروری ہے۔

پاکستان میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے لیے عملی منصوبہ بندی، سرمایہ کاری اور متعلقہ شعبوں میں مہارتوں کی ترقی اہم ہوگی۔ ان اقدامات کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکے گا کہ ان کے نتیجے میں کاروبار، برآمدات، زرعی پیداوار اور عوامی خدمات میں کتنی بہتری آتی ہے۔

More News