ملک بھر میں آٹے کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے باہر، چکی کا آٹا 200 روپے کلو فروخت ہونے لگا

ملک بھر میں آٹے کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے باہر، چکی کا آٹا 200 روپے کلو فروخت ہونے لگا

ملک بھر میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔ چکی کا آٹا 200 روپے فی کلو تک فروخت ہونے لگا ہے، جبکہ فائن آٹے کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب روٹی کی قیمت 30 سے 35 روپے تک پہنچنے سے شہریوں کے لیے روزمرہ اخراجات پورے کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

تازہ میڈیا رپورٹس کے مطابق مختلف شہروں میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے باعث عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔ کراچی میں چکی کا آٹا تقریباً 200 سے 210 روپے فی کلو تک فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ فائن آٹے کی قیمت بھی بڑھ گئی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بنیادی ضرورت کی اس شے کی بڑھتی ہوئی قیمتیں گھریلو بجٹ پر اضافی بوجھ ڈال رہی ہیں۔

پشاور میں بھی آٹے کی قیمتوں میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ شہر میں 20 کلو گرام موٹے آٹے کا تھیلا 3 ہزار 300 روپے تک فروخت ہونے لگا ہے، جبکہ اسی وزن کے فائن آٹے کے تھیلے کی قیمت تقریباً 3 ہزار 120 روپے بتائی گئی ہے۔ آٹے کی قیمت بڑھنے کے ساتھ تندوروں پر روٹی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

دوسری جانب روٹی اور نان کی قیمتیں بڑھنے سے کم آمدنی والے طبقے کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد اور محدود آمدنی رکھنے والے خاندانوں کے لیے خوراک کے بڑھتے اخراجات برداشت کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ آٹا، روٹی اور دیگر بنیادی اشیائے خورونوش مہنگی ہونے سے گھریلو بجٹ متاثر ہو رہا ہے۔

کراچی میں جاری سرکاری نرخ نامے کے مطابق چکی کے آٹے کی قیمت 145 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم بازار میں اس سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت کی اطلاعات ہیں۔ فائن آٹے کی سرکاری تھوک قیمت بھی مارکیٹ میں رائج نرخ سے کم بتائی جا رہی ہے۔ سرکاری نرخوں اور بازار کی قیمتوں میں فرق نے قیمتوں پر مؤثر نگرانی کے حوالے سے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔

آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے اسباب میں گندم کی قیمت، فراہمی میں رکاوٹیں اور فلور ملوں کے نرخ شامل ہیں۔ شہریوں نے حکومت اور متعلقہ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ آٹے کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے، سرکاری نرخوں پر عمل درآمد کرایا جائے اور ناجائز منافع خوری کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

عوام کو توقع ہے کہ متعلقہ حکام قیمتوں کو قابو میں لانے کے لیے عملی اقدامات کریں گے تاکہ بنیادی خوراک عام آدمی کی پہنچ میں رہے۔

More News