ملک بھر کی جیلوں میں ایک لاکھ 10 ہزار قیدی موجود، گنجائش سے کہیں زیادہ بوجھ
ملک کی جیلوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ قیدی موجود ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ بروقت عدالتی فیصلے نہ ہونے کے باعث انڈر ٹرائل قیدیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
پاکستان بھر کی جیلوں میں قیدیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے جیلوں کی گنجائش اور عدالتی نظام پر اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق ملک بھر کی جیلوں میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 10 ہزار قیدی موجود ہیں، جبکہ جیلوں کی مجموعی گنجائش صرف 64 ہزار قیدیوں کی ہے۔ اس صورتحال کے باعث بیشتر جیلیں گنجائش سے کہیں زیادہ قیدیوں کا بوجھ برداشت کر رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جیلوں میں موجود بڑی تعداد انڈر ٹرائل قیدیوں کی ہے، جن کے مقدمات ابھی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ بروقت فیصلے نہ ہونے کے باعث ایسے قیدی طویل عرصے تک جیلوں میں رہنے پر مجبور ہیں، جس سے جیلوں میں گنجائش کا مسئلہ مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔
پنجاب کی صورتحال اس حوالے سے سب سے زیادہ تشویشناک ہے۔ صوبے میں مجموعی طور پر 45 جیلیں ہیں، جن میں تقریباً 38 ہزار قیدی رکھنے کی گنجائش موجود ہے، تاہم اس وقت ان جیلوں میں تقریباً 70 ہزار قیدی موجود ہیں۔ یوں پنجاب کی جیلوں میں گنجائش سے تقریباً 32 ہزار زیادہ قیدی موجود ہیں۔
پنجاب کی جیلوں میں موجود 70 ہزار قیدیوں میں سے صرف 16 ہزار سزا یافتہ ہیں، جبکہ بڑی تعداد انڈر ٹرائل قیدیوں پر مشتمل ہے۔ یہ صورتحال مقدمات کے بروقت فیصلوں اور عدالتی نظام میں اصلاحات کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔
سندھ میں بھی جیلوں کی صورتحال مختلف نہیں۔ صوبے کی 23 جیلوں میں تقریباً 14 ہزار قیدی رکھنے کی گنجائش ہے، لیکن ان جیلوں میں اس وقت 25 ہزار قیدی موجود ہیں۔ سندھ کی جیلوں میں موجود 25 ہزار قیدیوں میں سے صرف 4 ہزار سزا یافتہ ہیں، جبکہ باقی بڑی تعداد مقدمات کے فیصلوں کی منتظر ہے۔
خیبر پختونخوا میں بھی جیلوں پر قیدیوں کا دباؤ موجود ہے۔ صوبے کی 39 جیلوں میں مجموعی طور پر 11 ہزار 382 قیدی موجود ہیں۔ ان میں صرف تقریباً 2 ہزار قیدی سزا یافتہ ہیں، جبکہ دیگر قیدیوں کے مقدمات مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کے مختلف صوبوں میں جیلوں کی گنجائش اور قیدیوں کی اصل تعداد کے درمیان نمایاں فرق موجود ہے۔ ماہرین کے مطابق اس مسئلے کا حل صرف جیلوں کی تعداد یا گنجائش بڑھانا نہیں بلکہ مقدمات کے بروقت فیصلے، قانونی معاونت اور انڈر ٹرائل قیدیوں کے مقدمات کی تیز رفتار سماعت بھی ہے۔
اگر عدالتی مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کا سلسلہ برقرار رہا تو جیلوں میں قیدیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد انتظامی، مالی اور انسانی حقوق کے حوالے سے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔






