پاکستان سے سعودی عرب زرعی و غذائی برآمدات 3 ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم

پاکستان سے سعودی عرب زرعی و غذائی برآمدات 3 ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم

پاکستان اور سعودی عرب نے آئندہ دو سال کے دوران زرعی و غذائی مصنوعات کی تجارت بڑھانے، گوشت کی برآمدات بتدریج دوگنا کرنے اور پاکستانی پھلوں و سبز چارے کی سعودی مارکیٹ تک رسائی بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

اسلام آباد: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان زرعی اور غذائی شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ دونوں ممالک نے آئندہ دو سال کے دوران پاکستان سے سعودی عرب کو زرعی و غذائی مصنوعات کی برآمدات 3 ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

مشترکہ اعلامیے کے مطابق یہ پیش رفت وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی دلچسپی اور وفاقی وزیر غذائی تحفظ رانا تنویر حسین کی قیادت میں سعودی وزیر ماحولیات، پانی و زراعت انجینئر عبدالرحمٰن اے الفضلی کے دورۂ اسلام آباد کے دوران ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں سامنے آئی۔

دورے کے دوران سعودی وفد کو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایگریکلچر اینڈ فوڈ اسٹریٹجک پلان کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وفد نے متعلقہ پاکستانی حکام اور اداروں سے ملاقاتیں بھی کیں، جن میں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) اور پاک سعودیہ ایگری بزنس فورم کے نمائندگان شامل تھے۔

مذاکرات کے دوران دونوں ممالک نے زرعی تجارت کے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ فریقین نے خاص طور پر چاول کی تجارت میں اضافے اور پاکستان سے سعودی عرب کو سرخ گوشت کی برآمدات بتدریج دوگنا کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا۔

سعودی وفد نے پاکستانی زرعی مصنوعات میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے ملک سے مختلف اقسام کے پھلوں اور سبز چارے کی سعودی عرب درآمد بڑھانے کے حوالے سے بھی مثبت خیالات کا اظہار کیا۔ اس اقدام سے پاکستانی زرعی پیداوار کے لیے نئی منڈیوں تک رسائی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

ملاقاتوں کے دوران پاکستان کے زرعی شعبے میں سرمایہ کاری اور جدید زرعی طریقوں کے فروغ پر بھی بات چیت کی گئی۔ سعودی وفد نے بھکر میں آبپاشی کے کامیاب ماڈل کو سراہا اور چھوٹے کاشتکاروں کی معاونت کے لیے دوسرے مرحلے میں سرمایہ کاری کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔

حکام کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان زرعی تعاون میں اضافے سے نہ صرف برآمدات کو فروغ ملے گا بلکہ پاکستان کے کسانوں اور زرعی کاروبار سے وابستہ افراد کے لیے بھی نئی معاشی مواقع پیدا ہوں گے۔

پاکستان کے لیے سعودی عرب ایک اہم تجارتی اور معاشی شراکت دار ہے، جبکہ زرعی و غذائی مصنوعات کی برآمدات میں اضافے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم کو مزید بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔

حالیہ مذاکرات میں زرعی تجارت کے ساتھ ساتھ ویلیو ایڈیشن، مارکیٹ تک رسائی، سرمایہ کاری اور جدید آبپاشی نظام جیسے شعبوں میں تعاون کے امکانات بھی نمایاں ہوئے۔ دونوں ممالک کی جانب سے طے شدہ اہداف پر عملدرآمد کے لیے آئندہ مرحلے میں مزید مشاورت اور عملی اقدامات متوقع ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ سعودی مارکیٹ میں پاکستانی چاول، گوشت، پھل اور دیگر زرعی مصنوعات کی طلب میں اضافے سے برآمد کنندگان کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، جبکہ دو طرفہ زرعی تعاون پاکستان کی برآمدی معیشت کے لیے بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے

More News