پاکستان میں مہنگائی کی سالانہ شرح 9.6 فیصد ریکارڈ، دو ماہ بعد دوبارہ سنگل ڈیجٹ میں آگئی
ملک میں مہنگائی کی سالانہ شرح اکتوبر کے دوران 9.6 فیصد ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد مہنگائی کی شرح دو ماہ کے وقفے سے دوبارہ سنگل ڈیجٹ میں آگئی ہے۔ ادارہ شماریات نے اکتوبر کے ماہانہ مہنگائی کے اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔
ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2026 کے دوران سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 9.6 فیصد رہی۔ اس سے قبل مسلسل دو ماہ تک مہنگائی کی سالانہ شرح سنگل ڈیجٹ کی حد سے تجاوز کر گئی تھی، تاہم اکتوبر میں دوبارہ یہ شرح 10 فیصد سے نیچے آگئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر کے دوران ماہانہ بنیادوں پر مہنگائی میں 1.08 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ سالانہ مہنگائی کی شرح میں کمی آئی ہے، تاہم گزشتہ ماہ کے مقابلے میں اشیاء اور خدمات کی قیمتوں میں اضافہ برقرار رہا۔
مہنگائی کی سالانہ شرح میں کمی کو معاشی صورتحال کے جائزے میں ایک اہم اشاریہ سمجھا جاتا ہے، تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں۔ سالانہ شرح گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں قیمتوں میں اضافے کی رفتار کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ ماہانہ شرح ایک ماہ کے دوران ہونے والی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔
مہنگائی کا براہ راست اثر عام شہریوں کی قوت خرید اور گھریلو بجٹ پر پڑتا ہے۔ خصوصاً کم اور متوسط آمدنی والے گھرانے خوراک، بجلی، گیس، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی ضروریات کے اخراجات سے متاثر ہوتے ہیں۔
ادارہ شماریات کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق سالانہ مہنگائی کا سنگل ڈیجٹ میں واپس آنا ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم عوام کو حقیقی ریلیف ملنے کا انحصار روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں استحکام پر ہوگا۔








