پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس بنانے چاہئیں، آبادی بڑھ چکی ہے، خواجہ آصف

پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس بنانے چاہئیں، آبادی بڑھ چکی ہے، خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر ملک میں نئے انتظامی یونٹس قائم کرنے پر غور کیا جانا چاہیے تاکہ عوام کو بہتر سہولتیں فراہم کی جاسکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انتظامی اختیارات کو چند بڑے شہروں تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں نچلی سطح تک منتقل کرنا ضروری ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ دنیا کے متعدد ممالک میں انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے لیے نئے یونٹس تشکیل دیے جاتے ہیں، پاکستان میں بھی اس حوالے سے سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔ انہوں نے ماضی میں ملک کے تمام صوبوں کو ضم کرکے ون یونٹ بنانے کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعد میں اس نظام کو ختم کردیا گیا تھا۔

وزیر دفاع کے مطابق پاکستان کی آبادی میں نمایاں اضافہ ہوچکا ہے، جس کے باعث انتظامی ڈھانچے اور عوامی سہولتوں کی فراہمی کے نظام پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے افغانستان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں پہلے 8 سے 10 صوبے تھے، جنہیں تقسیم کرکے تعداد 30 سے 32 تک پہنچا دی گئی۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ملک میں اختیارات کا ارتکاز لاہور، کراچی، کوئٹہ اور پشاور جیسے بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ان کے مطابق صوبائی دارالحکومتوں کے اختیارات مختلف انتظامی یونٹس کو منتقل کیے جانے چاہئیں تاکہ دور دراز علاقوں کے عوام کو بھی حکومتی سہولتوں تک آسان رسائی حاصل ہو۔

انہوں نے فنڈز کی تقسیم کے طریقہ کار پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ مرکز سے صوبوں کو منتقل ہونے والے فنڈز اکثر صوبائی حکومتوں کے اختیار میں رہ جاتے ہیں، حالانکہ ان وسائل کا اصل مقصد بلدیاتی اداروں کے ذریعے عوام تک سہولتیں پہنچانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی ادارے بھی صوبائی حکومتوں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں، جس سے مقامی سطح پر اختیارات اور وسائل کی منتقلی متاثر ہوتی ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ سیاست دانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت عوام کی امانت ہے، تاہم سیاست دان تمام اختیارات اپنے پاس رکھنے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ اگر ملک میں 12 انتظامی یونٹس بنانے کی تجویز ہے تو ان کے قیام پر غور کیا جاسکتا ہے، تاہم ان کی تشکیل میں زبان، نسل یا سیاسی مفادات کو بنیاد نہیں بنانا چاہیے۔

 

More News